ایران نے ٹرمپ کے تعمیری مذاکرات کےدعوے کی تردید کی ، باقر قالیباف نے قراردیا فیک نیوز

(اےیوایس)

امریکی صدرٹرمپ کا ایران سے تعمیری بات چیت اور پاورپلانٹس پرحملوں کوپانچ دنوں تک مؤخر کرنے کا اعلان بازار میں مثبت اور مطلوبہ اچھال کا سبب ہے لیکن عسکری جنگ کے نتائج بازار سے نہیں میدان میں جیت ہار سے طئے ہوتے ہیں۔ عالمی بازار اور اقتصادی پہلو سے صدر ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے کوصرف اس تناظر میں دیکھنا درست نہیں ہوگا۔تو پھر ٹرمپ کا یہ اعلان ہزیمت ہے،حکمت عملی ہے یا سازش ہے؟

’ٹرمپ کا دعویٰ فرضی خبر‘
کیونکہ ایران نے ٹرمپ کے بات چیت کے دعوے کو سرے سے مسترد کردیا ہے ۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکرباقر قالیباف نے امریکہ کی جانب سے ایران سے بات چیت کی خبروں کو فیک نیوز قرار دیا ہے۔سوشل میڈیا پر پوسٹ میں انھوں نے واضح کیا کہ امریکہ سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔انھوں نے زوردے کر کہا کہ ، اس فرضی نیوز کا مقصد اقتصادی اور تیل کے بازاروں میں گرتی قیمتوں کو مستحکم کرنا اور خود کو اوراسرائیل کو جنگ کے دلدل سے نکالنا ہے ۔

اس پوسٹ میں محمد باقر قالیباف نے مزید لکھا ہے کہ ایران کے عوام جارح ممالک کی شرمناک سزاچاہتے ہیں یہ ہدف حاصل کرنے تک تمام اہلکار اپنے لیڈر اور قوم کے پیچھے مضبوطی سے کھڑے ہیں۔

ایران کو امریکہ پر نہیں بھروسہ
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایسی کسی بھی سفارتی بات چیت کی تردید کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز پر ایران کا موقف واضح ہے۔ اس بیچ ،ایران کے صدرمسعود پزشکیان نے فوجی جوانوں کی تعریف کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ میں مسلح افواج اور مادر وطن کے بہادر محافظوں کوسلام کرتاہوں ۔ملک کا روشن مستقبل اور اس سرزمین کے بچوں کا محفوظ اور پرامن کل عوام کی مزاحمت، صبر اور ایران کے محافظوں کے ساتھ ان کی یکجہتی پر منحصر ہے۔

مذاکرات اورمتضاد اطلاعات

خبررساں ایجنسی ایسو سی ایٹڈ پریس نے مصری حکام کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکیے،مصر اور پاکستان کے ذریعہ واشنگٹن اور تہران کے بیچ پیغام کا تبادلہ کیا ہے۔اس کا مقصد ایران اور خطے میں توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ نہ بنانا ہے۔نام نہ ظاہر کیے جانے کی شرط پر حکام نے بتایا کہ یہ فی الحال اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *