امریکی پابندیوں کے باعث فرانسیسی جج نکولس گویو جدید مالیاتی نظام سے عملاً خارج ہو گئے، جس سے عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ یہ معاملہ آئی سی سی کے وارنٹس اور نیتن یاہو کے خلاف کارروائی کے تناظر میں عدالتی خودمختاری اور جمہوریت پر ممکنہ اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔
ایک فرانسیسی جج، جو اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامین نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کرنے میں شامل تھے، کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں نے انہیں جدید مالیاتی نظام سے عملاً باہر کر دیا ہے، جس سے واشنگٹن کے اقدامات کے اثر و رسوخ پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔ نکولس گویو، جو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ایک پینل کا حصہ رہے، نے کہا کہ امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل کئے جانے کے بعد وہ روزمرہ کے مالی لین دین انجام نہیں دے سکتے۔ انہوں نے فرانسیسی ٹی وی کو بتایا:’’میں اپنا بینک کارڈ استعمال نہیں کر سکتا، امیزون سے آرڈر نہیں دے سکتا، ایئر بی این بی کے ذریعے بکنگ نہیں کر سکتا، یا ایکسپیڈیااور بکنگ ڈاٹ کام پر لین دین مکمل نہیں کر سکتا۔ ‘‘انہوں نے اس صورتحال کو’۳۰؍ سال پیچھے چلے جانے‘ کے مترادف قرار دیا۔ یہ پابندیاں ظاہر کرتی ہیں کہ عالمی مالیاتی اور ڈجیٹل نظام کس حد تک امریکی ڈھانچے سے جڑے ہوئے ہیں، جس کے باعث پابندیوں کا شکار افراد روزمرہ کی معاشی سرگرمیوں سے عملاً خارج ہو جاتے ہیں۔
سفارتی دباؤ اور جمہوری خدشات
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے مبینہ طور پر واشنگٹن کو پابندیاں اٹھانے کیلئے کئی خطوط ارسال کئے ہیں، لیکن ابھی تک امریکہ کی جانب سے مثبت جواب نہیں ملا۔ گوئیو کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ وہ ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران بلیک لسٹ میں رہیں گے، اور انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے اثرات صرف ذاتی مشکلات تک محدود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا:’’اگر پراسیکیوٹر مقدمہ چلانے سے ڈریں، اگر جج فیصلہ دینے سے ڈریں تو پھر جمہوریت باقی نہیں رہتی۔ ‘‘انہوں نے متنبہ کیا کہ پابندیوں کا خوف عالمی سطح پر عدالتی خودمختاری کو کمزور کر سکتا ہے۔
واضح ر ہے کہ یہ پابندیاں ۲۰۲۴ء میں آئی سی سی کی جانب سے نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یواو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات پر جاری کئے گئے گرفتاری وارنٹس کے بعد عائد کی گئی تھیں۔ یہ مقدمہ اور اس پر واشنگٹن کا ردعمل بین الاقوامی انصاف کی حدود اور عالمی قانونی اداروں پر سیاسی دباؤ کے حوالے سے بحث کو مزید تیز کر چکا ہے۔