جب وہ اپنے بچے کو سامان دلانے لے جا رہے تھے عین اسی وقت وہ اپنے گھر کے پاس گولیوں کی زد میں آ گئے۔ انھیں اسرائیلی فوجیوں نے اپنے ۱۸؍ مہینے کے بچے کو زمین پر چھوڑنے کیلئے مجبور کیا اور قریبی اسرائیلی چوکی پر تفتیش کیلئے لے جایا گیا۔ میڈیکل رپورٹ سے تصدیق ہوئی کہ فوجیوں نے بچے پر اسامہ ابو ناصر کے سامنے تشدد کیا گیا، اس کے پیروں کو سگریٹ سے جلایا گیا اور پیر میں ناخن گاڑے گئے۔ رپورٹ کے مطابق بچے کے پیر سگریٹ سے جلنے اور ناخن گاڑنے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔
بچے کو تقریباً ۱۰؍ گھنٹے بعد المغازی کی کمیٹی آف ریڈ کراس کے ذریعے خاندان کے حوالے کیا گیا جب کہ اس کے والد کو اب تک حراست میں رکھا گیا ہے۔ خاندان نے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ والد کی رہائی کیلئے مداخلت کریں تاکہ وہ طبی علاج جاری رکھ سکیں۔
جنگ بندی کی خلاف ورزیاں
اسرائیل اکتوبر ۲۰۲۵ء سے اب تک جنگ بندی کی ۱۰۰؍ سے زائد خلاف ورزیاں کر چکا ہے، جن میں تقریباً ۶۸۰؍ فلسطینی ہلاک اور ایک ہزار ۸۱۳؍ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ واضح ہو کہ اسرائیل نے اکتوبر ۲۰۲۳؍ میں جاری نسل کشی میں ۷۲؍ ہزار سے زائد فلسطینیوں کا قتل اور ایک لاکھ ۷۱۰۰۰؍ فلسطینیوں کو زخمی کیا ہے، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔ اسرائیل نے علاقے کے بیشتر حصے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے اور پوری آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔