انڈونیشیا نے اعلان کیا ہے کہ ۱۶؍سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے جارہا ہے، وزیر ذرائع ابلاغ کے مطابق یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز، ایکس، بگولیو اور روبلوکس کے استعمال پر پابندی۲۸؍ مارچ سے نافذ العمل ہوگی۔
دریں اثناء مینتیا کے مطابق، اس کا نفاذ بتدریج کیا جائے گا، جس کا آغاز یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز، ایکس، بگولیو اور روبلوکس جیسے پلیٹ فارمز سے ہوگا۔انہوں نے ڈیجیٹل دنیا میں موجود خطرات بشمول فحش مواد، سائبر بلیئینگ (آن لائن غنڈہ گردی)، آن لائن فراڈ اور ڈیجیٹل لت کا حوالہ دیا۔ان کا کہنا تھا، ہم سمجھتے ہیں کہ اس قدم سے ابتدائی طور پر تکلیف ہو سکتی ہے۔ تاہم، حکومت اس وقت خاموش نہیں بیٹھ سکتی جب بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہو۔ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ بچوں کے تحفظ کی ذمہ داری ڈیجیٹل اسپیس کو چلانے والے پلیٹ فارمز پر عائد ہو۔ تاکہ والدین کو ان چیلنجز کا اکیلے سامنا نہ کرنا پڑے۔مینتیا نے مزید کہا، ٹیکنالوجی کو انسانیت کو انسان بنانا چاہیے، نہ کہ ہمارے بچوں کے بچپن کی قربانی دینی چاہیے۔