بعد ازاں وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ ہندوستان اور ایران کے درمیان قدیم تعلقات ہیں اور ایران تاریخی طور پر ہندوستان کا دوست ملک رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کے موجودہ مؤقف کی وجہ سے ہندوستانی عوام ذلت محسوس کر رہے ہیں۔وجین نے الزام عائد کیا کہ غزہ اور ایران میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے شہریوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام کے باوجود، ہندوستانی حکومت نے امریکی سامراج کے خلاف آواز اٹھانے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس، وزیراعظم نے اسرائیل کے حق میں مؤقف اپنایا۔ جب اسرائیل حملے کر رہا تھا، ہم نے ہندوستانی وزیراعظم کو اسرائیلی وزیراعظم سے گلے ملتے دیکھا۔ یہ اتفاقیہ نہیں تھا، اس سے دنیا کو یہ پیغام جا رہا ہے کہ ہندوستان اسرائیل کے ساتھ ہے۔انہوں نے اس واقعے کا بھی حوالہ دیا جس میں ہندوستان میں مشترکہ فوجی مشق میں شرکت کے بعد واپس جانے والے ایک ایرانی جہاز پر مبینہ طور پر امریکہ نے حملہ کیا، جس میں کئی نیوی افسر ہلاک ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاز پر اس وقت حملہ ہوا جب وہ ہمارے ملک میں منعقدہ بحری مشق میں شرکت کے بعد واپس جا رہا تھا، اس میں عملے کے متعدد ارکان ہلاک ہوئے، لیکن مرکز نے اس حملے کی مذمت نہیں کی۔ وہ ہمارے مہمان بن کر آئے تھے، کم از کم حکومت کو یہ تو کہنا چاہیے تھا کہ ان پر حملہ کرنا غلط تھا؟ یہ خاموشی ذلت آمیز سرنڈر کے سوا کچھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں صہیونی اور یہاں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نظریاتی طور پر ہم خیال ہیں، اسی وجہ سے اسرائیل کی مکمل حمایت کا مؤقف سامنے آیا ہے۔
مزید برآں وجین نے کہا کہ عالمی عوامی رائے عامہ بڑی حد تک امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی مخالف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک اور نیٹو کے ارکان سمیت بہت سے روایتی مغربی اتحادیوں نے بھی اس اقدام کی کھل کر حمایت نہیں کی۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان حملوں کا اصل مقصد دنیا کے تیل کے وسائل پر قبضہحاصل کرنے کا امریکی مفاد ہے۔