دریں اثناء شہر کے کمشنر جیسیکا ٹِش نے بتایا کہ اسلام مخالف مظاہرے میں تقریباً ۲۰؍ افراد شریک تھے، جبکہ ’’نازیوں کو نیویارک سے بھگاؤ/نفرت کے خلاف کھڑے ہو‘‘کے عنوان سے جوابی مظاہرے میں تقریباً ۱۲۵؍شرکاء شامل تھے۔دوپہرسوا ۱۲؍ بجے کے قریب کشیدگی اس وقت بڑھی جب ابتدائی مظاہرے میں شامل ایک شخص نے مبینہ طور پر جوابی مظاہرین پر مرچوں کا اسپرے کیا۔ اس کے فوراً بعد،۱۸؍ سالہ جوابی مظاہرین امیر بالات نے مبینہ طور پر ایک آلہ جلایا اور مخالف گروپ کی طرف پھینک دیا۔ بالات بعد میں فرار ہوا اور۱۹؍ سالہ ابراہیم نِک سے ایک اور آلہ لے کر آیا۔ دونوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس کے بم اسکواڈ کے مطابق، یہ ڈیوائس جنہیں کالے ٹیپ سے لپیٹا گیا تھا اور ان میں نٹ، بولٹ، اسکرو اور ایک فیوز بھرا ہوا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ اشیاء فعال دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائسز تھیں یا فرضی۔ تاہم پولیس نے تصدیق کی کہ میئر ممدانی مظاہروں کے دوران گریسی مینشن کے اندر موجود تھے۔ ان کے ترجمان نے لینگ کے زیر اہتمام اس مظاہرے کو ’’قابل نفرت اور اسلام مخالف‘‘ قرار دیا۔بعد ازاں مجموعی طور پر چھ گرفتاریاں ہوئیں جن میں بالات، نک اور مرچوں کا اسپرے کرنے والا ملزم شامل ہے۔ جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے کہا کہ وہ اس واقعے کی بریفنگ دی گئی ہیں اور وہ اس بات سے مطمئن ہیں کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا، ’’نیویارک پرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتا ہے، لیکن ہم نفرت یا تشدد کے لیے صفر رواداری رکھتے ہیں۔‘‘