پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں سکیورٹی فورسز پر اب تک کا سب سے مہلک حملہ ہوا ہے۔ ضلع باجوڑ کے علاقے ماموند (ملنگی) میں دہشت گردوں نے پاکستانی فوج کے اڈے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 16 فوجی ہلاک ہوگئے۔ اس تباہ کن حملے نے سرحدی علاقوں میں فوج کے حفاظتی انتظامات کو تہس نہس کر دیا ہے۔
یہ پاکستان کے علاقے ملنگی قادر خیل میں واقع مدرسے کے قریب ہونے والا اب تک کا سب سے مہلک حملہ بتایا جا رہا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق خودکش دھماکے یا راکٹ حملے میں یکیورٹی چوکی کو نشانہ بنایا گیا، جس سے قریبی شہریوں کے گھروں کی چھتیں گر گئیں اور مدرسے کو خاصا نقصان پہنچا۔ اس حملے میں مبینہ طور پر متعدد پاکستانی سکیورٹی اہلکار اور عام شہری ہلاک ہوگئے ، جب کہ بہت سے لوگ شدید زخمی ہوئے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس سے قریبی مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ واقعے سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو سیل کرکے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔
سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ خیبر پختونخوا اور افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں اور باغیوں کے حوصلے بلند ہیں۔ ان علاقوں میں گزشتہ چند مہینوں میں پاکستانی فوج پر حملوں کی تعدد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ باجوڑ میں ہونے والے اس تازہ ترین تشدد نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے اندرونی سلامتی کے خدشات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
بلوچستان میں پاکستانی فوج پر بڑھتے ہوئے حملے خطے میں سنگین عدم استحکام اور سلامتی کے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔ باغی گروپوں کی طرف سے فوجی قافلوں، چوکیوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا ایک معمول بن چکا ہے۔ BLA جیسی تنظیمیں، خاص طور پر، VBIEDs اور خودکش حملوں کے ذریعے فوجی تنصیبات پر تباہی مچا رہی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک باغیوں کی سرگرمیوں میں یہ اضافہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی داخلی سلامتی کی ناکامیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ فوج کی طرف سے کومبنگ آپریشنز کے باوجود، باغی گروپوں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔