کوٹ دوار کے بدری ناتھ روڈ پر واقع ان کے جیم ’’ہلک جم‘‘ کے بائیکاٹ کی اپیلیں کی گئیں۔ رپورٹس کے مطابق، واقعے سے قبل جم کے تقریباً ۱۵۰؍ ممبران تھے، لیکن بعد میں یہ تعداد کم ہو کر صرف ۱۵؍ رہ گئی۔ اس کمی نے دیپک کی مالی حالت کو شدید متاثر کیا ہے۔ وہ جم کے لیے ماہانہ ۴۰؍ ہزار روپے کرایہ اور ۱۶؍ ہزار روپے ہوم لون کی قسط ادا کرتے ہیں، جس کے باعث مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔اس صورتحال میں سپریم کورٹ کے ۱۵؍ سینئر وکلاء نے دیپک کمار کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے ۱۰۔۱۰؍ ہزار روپے ادا کر کے جم کی سالہ رکنیت حاصل کی۔ اس مہم کی تحریک جان بریٹاس سے ملی، جو سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمنٹ ہیں اور اس سے قبل جم کا دورہ کر کے رکنیت لے چکے تھے۔
قانونی امداد بھی اس حمایت کا حصہ بنی۔ وکلاء کے گروپ نے دیپک کو کسی بھی ممکنہ قانونی کارروائی میں مفت نمائندگی فراہم کرنے کا عہد کیا، جبکہ ۲۰؍ سے زائد وکلاء اس پرو بونو مہم میں شامل ہو گئے۔ سماجی و ثقافتی حلقوں سے بھی حمایت سامنے آئی۔ بالی ووڈ اداکارہ سورا بھاسکر اور انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دیپک کے جم کی رکنیت خرید کر ان کا ساتھ دیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین نے جم کی اکاؤنٹ تفصیلات طلب کر کے مالی مدد کی پیشکش کی۔ جے پور کے سماجی کارکن اوی ڈانڈیا نے اعلان کیا کہ وہ پہلے ۱۰۰؍ درخواست گزاروں کی ایک ماہ کی فیس خود ادا کریں گے۔ کچھ حامیوں نے دیپک کو آن لائن فٹنس سیشن شروع کرنے کا مشورہ بھی دیا، تاکہ وہ ڈجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی آمدنی بحال کر سکیں۔
ایسے ماحول میں سبیر بھاٹیا کا پیغام ایک علامتی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ہاٹ میل کے شریک بانی کے طور پر عالمی شہرت رکھنے والی شخصیت کے اس بیان کو یکجہتی اور شہری آزادی کے پیغام کے طور پر دیکھا گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف ایک مقامی تنازع بلکہ اظہارِ رائے، مذہبی ہم آہنگی اور شہری حقوق جیسے بڑے موضوعات سے جڑا ہوا ہے۔ دیپک کمار کے معاملے نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ معاشرتی اختلافات کے بیچ شہری یکجہتی کیسے قائم رکھی جا سکتی ہے۔