کینیڈا اور فرانس، جو دونوں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش کی سخت مخالفت کرتے ہیں، جمعے کے روز ڈنمارک کے خودمختار خطے گرین لینڈ کے دارالحکومت میں اپنے قونصل خانے کھول رہے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق دونوں ممالک کا یہ اقدام گرین لینڈ کی مقامی حکومت کی بھرپور حمایت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
گذشتہ سال وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد، ٹرمپ بار بار اس بات پر زور دیتے رہے کہ واشنگٹن کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس تزویراتی اور معدنی وسائل سے مالا مال آرکٹک جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا چاہیے۔
تاہم گزشتہ ماہ امریکی صدر نے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کے ساتھ ایک ’فریم ورک‘ معاہدہ کر لیا ہے، جس کے تحت امریکہ کے اثر و رسوخ میں اضافہ یقینی بنایا جائے گا۔
امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے جو آرکٹک میں واشنگٹن کے سکیورٹی خدشات کو پورا کرنے کے طریقوں پر بات چیت کر رہا ہے، تاہم ان مذاکرات کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔
اگرچہ ڈنمارک اور گرین لینڈ نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کے سکیورٹی خدشات سے اتفاق کرتے ہیں، مگر انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت مذاکرات میں ’سرخ لکیر‘ ہیں۔
یونیورسٹی آف گرین لینڈ کے سیاسیات کے ماہر جپے سٹرینڈسبیئرگ نے کہا کہ ’ایک لحاظ سے، گرین لینڈ کے عوام کے لیے یہ ایک فتح ہے کہ دو اتحادی ممالک نوک میں سفارتی نمائندگی قائم کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے بیانات کے خلاف ملنے والی حمایت کو بہت سراہا جا رہا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخوان نے جون میں نوک کے دورے کے دوران پیرس کی جانب سے قونصل خانہ کھولنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جہاں انہوں نے گرین لینڈ کے ساتھ یورپ کی یکجہتی کا اظہار کیا اور ٹرمپ کے عزائم پر تنقید کی۔