کمیٹی نے کہا کہ یہ کوئی علاحدہ واقعہ نہیں ہے بلکہ ان حملوں کو اسرائیلی فوجیوں کی حمایت حاصل ہے۔ کالونائزیشن اینڈ وال زیزسٹنس کمیشن کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ غیر قانونی آباد کاروں نے ۲۰۲۵ء میں ۴؍ ہزار ۷۲۳؍ سے زیادہ حملے کئے تھے۔ یہ تنبیہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں وسیع پیمانے پر اسرائیلی کارروائیوں کے درمیان کی گئی ہے، جس میں غزہ میں گھروں کی مسماری، نقل مکانی اور فوجی کارروائیاں شامل ہیں، جسے کمیٹی نے اجتماعی تشدد اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ واضح ہو کہ یہ کمیٹی ۲۰۱۲ء میں صدارتی حکم نامے کے ذریعے قائم کی گئی تھی اور یہ تنظیم آزادی فلسطین سے وابستہ ہے۔ فلسطینیوں کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۴ء کے آخر تک مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کی تعداد ۱۸۰؍ سے زائد بستیوں اور ۲۵۶؍ بستیوں میں ۷؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار تک پہنچ گئی۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک اسرائیلی افواج اور غیر قانونی آباد کاروں نے مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں کم از کم ایک ہزار ۱۱۰؍ فلسطینیوں کو ہلاک اور کم از کم ۱۱؍ ہزار ۵۰۰؍ کو زخمی کیا ہے۔ عالمی عدالت انصاف نے جولائی ۲۰۲۴ء میں ایک تاریخی رائے میں فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی قرار دیا اور مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تمام بستیوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا۔