کسی پر منحصر ہونا آپ کو کمزور بناتا ہے
کلاس نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ یورپ کو اپنا دفاعی نظام خود بنانا چاہئے، کیوں کہ کسی پر انحصار آپ کی بنیاد کو کمزور بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’ہم نے بڑی مشکل سے یہ سیکھا ہے کہ کسی پر منحصر ہونا آپ کو کمزور بنا دیتا ہے۔‘‘ مزید انہوں نے کہا یورپی یونین کے وزرائے دفاع ہمیشہ قومی بجٹ اور فیصلوں کا حوالہ دیتے ہیں، اگر ہمارے دفاعی نظام کی بنیادیں مضبوط ہوں گی تو ہم ایک بڑے علاقے کا احاطہ کر سکتے ہیں۔ کلاس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام کہتے ہیں کہ انہیں یورپی فوج کی ضرورت ہے، مگر میرا ایسا خیال ہے کہ عملی طور پر یہ درست نہیں ہے۔ انہوں واضح کیا کہ ’’آپ جانتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک ہی فوج ہے، ایک ہی دفاعی بجٹ ہے، تو اگر آپ پہلے سے ہی نیٹو کا حصہ ہیں تو آپ کو ایک فوج کے علاوہ علاحدہ فوج بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ بحران کے وقت سب سے زیادہ اہم حکم اور اس پر عمل ہے۔ کون کس کو حکم دیتا ہے؟‘‘
کلاس نے مزید کہا کہ دو مختلف یورپی اور نیٹو کی فوجیں رکھنا نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہی وجہ ہے کہ میں کہتی ہوں ہمیں اپنے دفاعی نظام کو مضبوط کرنا چاہئے، جو نیٹو کا بھی حصہ ہو، اس سے نیٹو کو بھی فائدہ ہوگا۔ نیٹو کو نظر انداز کرنا درست نہیں ہے۔‘‘ نیٹو کی فوجی درجہ بندی سے متعلق کلاس نے کہا کہ یورپی یونین کی نیٹو سے ایک درخواست ہے کہ وہ فوجی درجہ بندی اور دیگر معلومات ہمیں فراہم کرے۔ اور اس پر بھی زور دیا کہ وہ الگ سے ایک ایک ملک کی مدد نہیں کر سکتے اسلئے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے۔ اگر وہ تمام چیزیں نہیں جانتے ہیں، تو انہیں جاننے کی ضرورت ہے۔ مزید کہا کہ ’’تمام ممبران کو ایک دوسرے کو معلومات فراہم کرنے پر رضامند ہونے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ ترکی کے بارے میں سوچتے ہیں اور ہم کچھ یورپی یونین ممبران کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمیں ان رکاوٹوں سے باہر آنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ ہمیں واقعی ایک دوسرے کو معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے تو ہم دونوں دونوں تنظیموں یورپی یونین اور نیٹو کی مدد کر سکتے ہیں۔