بلوچستان کے ایک اور ضلع واشک میں اتوار کی صبح بلوچ شدت پسندوں نے حملہ کیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق درجنوں مسلح افراد شہر میں داخل ہو کر مختلف سرکاری اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور نقصان پہنچایا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب گذشتہ تین دنوں میں بلوچستان کے دس سے زائد اضلاع میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے درجنوں مقامات پر منظم حملے ہو چکے ہیں اور تازہ حملے میں بھی اس مسلح تنظیم کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ان حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ رات مزید 22 دہشتگرد مارے گئے جس کے بعد ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 177 تک پہنچ گئی ہے۔
واشک
واشک میں تعینات ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ کوئٹہ سے تقریباً 470 کلومیٹر دور واقع ضلع کے ہیڈ کوارٹر میں حملہ تقریباً 11 بجے شروع ہوا جب تقریباً 50 مسلح افراد 15 سے زائد موٹر سائیکلوں اور دو گاڑیوں میں سوار ہو کر شہر میں داخل ہوئے۔
اہلکار کے مطابق مسلح افراد تقریباً چار گھنٹے تک علاقے میں موجود رہے۔ اس دوران وہ ایس پی کے دفتر اور رہائش گاہ میں داخل ہوئ اور انہیں آگ لگا دی۔ اسی کے ساتھ نادرا کا دفتر، نیشنل بینک، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر اور پولیس کی ایک گاڑی کو بھی جلا دیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حملہ آور ڈی سی کی دو گاڑیاں اور پولیس کی دو سرکاری گاڑیاں بھی چھین کر ساتھ لے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دوران متعدد اہلکاروں اور افسران کو یرغمال بھی بنایا گیا تاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔ حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اہلکار کے مطابق حملوں کے دوران سرکاری عمارتوں اور ایف سی کیمپ کے قریب دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ایف سی اہلکاروں نے شدید مزاحمت کی جس کے باعث وہ آگے نہیں بڑھ سکے۔