بنگلہ دیش الیکشن، حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹنے والے نوجوان مایوسی کا شکار کیوں؟
ڈھاکہ یونیورسٹی کے طالب علم سدمان مجتبیٰ رفید والدین اور پولیس کی بات نہ مانتے ہوئے اس احتجاج میں شامل ہوئے جس نے اس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت گرا دی تھی۔
ان کا موقف تھا کہ خاندانی حکمرانی کے مقابلے میں جمہوریت کو یقینی بنانے کے لیے ریلیاں ضروری ہیں۔
تاہم 12 فروری کو ہونے والے انتخابات سے قبل بنتی صورت حال میں پہلی بار ان کی امیدیں ٹوٹتی نظر آ رہی ہیں۔
روئٹرز کے مطابق اس 25 سالہ نوجوان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ایک ایسے ملک کا خواب دیکھا تھا جہاں تمام لوگوں کو رنگ، نسل، جنس سے بالا تر برابر مواقع ملیں گے، ہمیں پالیسی میں تبدیلی اور اصلاحات کی امید ہے، مگر صورت حال ابھی اس خواب سے بہت دور ہے جو ہم نے دیکھا تھا۔‘
سابق وزیراعظم کے دور میں ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم اور معاشی مواقع نہ ملنے پر مایوس ہونے والے ہزاروں نوجوان حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تھے جو بنیادی طور ایک ’نیا بنگلہ دیش‘ چاہتے تھے۔
تاہم 2008 کے بعد سے پہلی بار شیخ حسینہ کے بغیر حکومت سازی کے اس موقع پر بھی کوئی اصلاحات دکھائی نہیں دیتیں اور نہ ہی کوئی متحرک جماعت سامنے آئی ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اب بھی معرکہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی جماعت بنگلہ دیشن نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے درمیان ہی ہے۔
30 برس سے کم عمر رکھنے والے افراد جن کو جین زی کے طور پر جانا جاتا ہے اور انہوں نے ہی ملک میں حکومت کے خاتمے کے لیے احتجاج کو آگے بڑھایا۔ ان کی تعداد 12 کروڑ 80 لاکھ کے ووٹرز میں ایک چوتھائی سے زیادہ ہے
ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ تدریس سے وابستہ سیاسی تجزیہ کار آصف شاہان کہتے ہیں کہ ’نوجوان پوری طرح سے متحرک ہیں اور وہ ووٹ ڈالنے بھی جائیں گے جس سے انتخابی نتائج پر اثر بھی پڑے گا۔‘
زیادہ تر کے بارے میں امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ نو تشکیل شدہ جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی کی حمایت کریں گے، جس کی قیادت میں احتجاجی لہر کی قیادت کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
تاہم جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد نوجوانوں کی اس میں دلچسپی کو کم کر سکتا ہے۔
23 سالہ شدرالامین کا کہنا ہے کہ ’وہ اپنی اخلاقی بنیادیں کھو چکے ہیں مگر وہ لوگ جو نیا بنگلہ دیش چاہتے ہیں ان کو بھی انہی دو جماعتوں میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور کیا جا رہا ہے۔‘
24 سالہ ہندو سٹوڈنٹ شمع دیباناتھ کہتی ہیں کہ ’سیاست اب بھی یہ یا وہ میں پھنسی ہوئی ہے اور اس میں کسی نئے انتخاب کی گنجائش نہیں ہے۔
عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس سے بھی جین زی کا کچھ حصہ مایوس دکھائی دیتا ہے جس کی وجہ پرتشدد ہجوم کی جانب سے صحافیوں اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر قابو نہ پایا جانا ہے۔
23 سالہ بدھسٹ سٹوڈنٹ ہیما چیکما کا کہنا تھا کہ ’ایک برس بعد ہی مجھے لگتا ہے کہ جولائی میں آنے والے انقلاب کا جذبہ پوری طرح دم توڑ چکا ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ پرانی صورت حال بہتر تھی مگر میرا خیال ہے کہ عبوری حکومت کے دور میں تشدد میں بہت اضافہ ہوا ہے جس کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔‘
تاہم ان تمام باتوں کے باوجود بھی جین زی کے زیادہ تر ووٹر اپنا حق دائے دہی استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
حالیہ دنوں میں ہونے والے ایک پول سے پتہ چلتا ہے کہ 18 سے 35 برس کے درمیان کی عمر والے والے 97 فیصد افراد ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
احتجاج میں اہم کردار ادا کرنے والی 26 طالبہ ایکٹیویسٹ عمامہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ ’لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے جا رہے ہیں اور یہی کافی ہے اور ایک جمہوری طور پر منتخب ہونے والی مستحکم حکومت ہی بنگلہ دیش کو آگے لے جا سکتی ہے۔‘