دریں اثناء یہ پابندی صرف مستقبل کے امیدواروں پر نافذ ہوتی ہے،جبکہ اس پابندی سے فی الحال ملازم فلسطینی اساتذہ مبرا ہیں۔مقبوضہ مشرقی یروشلم کےا سکولوں پراس قانون کی توسیع خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ یہ مقبوضہ علاقے کی فلسطینی آبادی پر اسرائیلی تعلیمی پالیسی مسلط کرتا ہے۔ تنقید نگاروں کے نزدیک یہ قدم فلسطینی رہائشیوں کے خلاف حکومتی امتیاز میں ایک مزید پیش رفت اور فلسطینی بچوں کو پڑھائی جانے والی روایت کوقابو کرنے کی کوشش ہے۔اگرچہ فلسطینی اہلکاروں کا اس پر فوری ردعمل نہیں آیا،تاہم یہ قانون کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے اور نسل پرستانہ امتیازی سلوک کا ذریعہ بنے گا۔
بعد ازاں کنیسٹ ریسرچ اینڈ انفارمیشن سینٹر کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ دہائی میں ۳۰۳۳۹؍ نئے اساتذہ اسرائیلی تعلیمی شعبے میں داخل ہوئے ہیں، جو اس پالیسی کے متاثر ہونے والے نظامکی وسعت کو اجاگر کرتا ہے۔ ترکی جو مستقل طور پر فلسطینی حقوق اور یروشلم کے قانونی حیثیت کے تحفظ کی وکالت کرنے والا ملک ہے، کے مبصرین کے لیےیہ قانون اسرائیل کی فلسطینی عوام کے حقوق اور ثقافتی شناخت پر ایک اور جارحانہ پالیسی کی نمائندگی کرتا ہے۔