اسرائیل: مشرقی یروشلم میں نئے فلسطینی اساتذہ کی تقرری پر پابندی کا قانون منظور

(اےیوایس)

اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں نئے فلسطینی اساتذہ پر پابندی عائد کرنے والا قانون منظور کر لیا، یہ قانون موجودہ ملازمین کو متاثر نہیں کرےگا، تاہم اس میں تحفظ اور آبادیاتی خدشات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

اسرائیلی کنیسٹ نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جو فلسطینی نظام میں تعلیم یافتہ نئے فلسطینی اساتذہ کو اسرائیلی سکولوں میں پڑھانے سے روکتا ہے، جس میں مقبوضہ مشرقی یروشلم کے سکول بھی شامل ہیں۔ یہ قانون، جسے وزیر اعظم نیتن یاہو کی لکوڈ پارٹی نے آگے بڑھایا، ۳۰؍ ووٹوں اس کے حق میں اور۱۰؍ اس کے خلاف، منظور ہوا، اور اس اقدام کو تحفظ اور آبادیاتی ضرورت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔نئے قانون کا مبینہ مقصد فلسطینی اتھارٹی کےمضر اثرات کو روکنا اور اسرائیل کی یہودی اور جمہوری تعلیمی اقدار کی حفاظت کرنا ہے۔ وزیر تعلیم یوآو کش کے مطابق، یہ قانون کسی بھی شخص کو جو فلسطینی اتھارٹی کے تعلیمی اداروں میں تعلیم یافتہ ہے، اسرائیلی تعلیمی نظام میں استاد کے طور پر ملازمت کرنے سے روکتا ہے۔

دریں اثناء یہ پابندی صرف مستقبل کے امیدواروں پر نافذ ہوتی ہے،جبکہ اس پابندی سے فی الحال ملازم فلسطینی اساتذہ مبرا ہیں۔مقبوضہ مشرقی یروشلم کےا سکولوں پراس قانون کی توسیع خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ یہ مقبوضہ علاقے کی فلسطینی آبادی پر اسرائیلی تعلیمی پالیسی مسلط کرتا ہے۔ تنقید نگاروں کے نزدیک یہ قدم فلسطینی رہائشیوں کے خلاف حکومتی امتیاز میں ایک مزید پیش رفت اور فلسطینی بچوں کو پڑھائی جانے والی روایت کوقابو کرنے کی کوشش ہے۔اگرچہ فلسطینی اہلکاروں کا اس پر فوری ردعمل نہیں آیا،تاہم یہ قانون کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے اور نسل پرستانہ امتیازی سلوک کا ذریعہ بنے گا۔

بعد ازاں کنیسٹ ریسرچ اینڈ انفارمیشن سینٹر کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ دہائی میں ۳۰۳۳۹؍ نئے اساتذہ اسرائیلی تعلیمی شعبے میں داخل ہوئے ہیں، جو اس پالیسی کے متاثر ہونے والے نظامکی وسعت  کو اجاگر کرتا ہے۔ ترکی جو مستقل طور پر فلسطینی حقوق اور یروشلم کے قانونی حیثیت کے تحفظ کی وکالت کرنے والا ملک ہے، کے مبصرین کے لیےیہ قانون اسرائیل کی  فلسطینی عوام کے حقوق اور ثقافتی شناخت پر ایک اور جارحانہ پالیسی کی نمائندگی کرتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *