پی ٹی آئی کا باغ جناح میں جلسہ: کارکنان اور پولیس آمنے سامنے، شیلنگ اور پتھراؤ

(اےیوایس)

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے سے قبل سیاسی، انتظامی اور سکیورٹی صورتحال کافی کشیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ اتوار کو باغِ جناح اور مزارِ قائد کے اطراف پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ شہر کے اہم مقامات پر سڑکوں کی بندش کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ترجمان پی ٹی آئی کراچی کے مطابق اب سے کچھ ہی دیر میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی باغِ جناح پہنچنے والے ہیں۔ ان کے علاوہ پی ٹی آئی کے مختلف قافلے بھی جلسہ گاہ کے اطراف پہنچ چکے ہیں۔
پولیس کے مطابق پیپلز چورنگی سے مزار قائد آنے والی سڑک کا ایک ٹریک بند کر دیا گیا ہے جبکہ خداداد کالونی سے آنے والی سڑک کے دونوں ٹریک مکمل طور پر بند ہیں۔ اس کے علاوہ گرومندر سے نمائش چورنگی کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ بھی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ ان اقدامات کے باعث شہر کے وسطی علاقوں میں ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور متبادل راستوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو رات گئے مشکلات کا سامنا
پاکستان تحریک انصاف سندھ کے رہنما حلیم عادل شیخ کے مطابق سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو حیدرآباد سے کراچی پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے متعدد مقامات پر سڑکوں کی بندش اور کنٹینرز لگائے جانے کے باعث ان کے قافلے کو بار بار راستے تبدیل کرنا پڑے۔
ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے قافلے کے ہمراہ رات گئے تک مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے کراچی پہنچے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قافلے کو بعض مقامات پر طویل انتظار بھی کرنا پڑا اور شہر میں داخلے کے لیے متبادل راستے اختیار کیے گئے۔ پارٹی قیادت کے مطابق ان مشکلات کے باوجود وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کراچی پہنچنے کا فیصلہ برقرار رکھا اور کارکنوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی کراچی آمد پر سندھ حکومت کی جانب سے ان کا باضابطہ استقبال بھی کیا گیا تھا۔ سندھ حکومت کے نمائندے صوبائی وزیر سعید غنی سمیت دیگر نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا استقبال کیا اور انہیں سندھ کی ثقافی اجرک اور ٹوپی کا تحفہ پیش کیا۔
سندھ حکومت نے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کے سکیورٹی کے انتظامات بھی کیے۔ تاہم اس کے باوجود بعد میں شہر میں سکیورٹی اقدامات اور سڑکوں کی بندش نے سیاسی کشیدگی کو جنم دیا۔
’کراچی میں موجودگی کے آخری لمحات ہیں‘
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے سندھ کی موجودہ صورت حال پر کہا کہ سندھ حکومت آخری دن بدمزگی پیدا نہ کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی کراچی میں موجودگی کے آخری لمحات ہیں اور ایسے میں حالات کو کشیدہ کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کا جلسہ مقررہ وقت اور مقام پر قانون کے مطابق اور جمہوری انداز میں ہو گا۔
انہوں نے کراچی کے عوام سے اپیل کی کہ وہ عمران خان کے نمائندوں اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو مایوس نہ کریں۔
پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ کارکنان پُرامن ہیں اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
باغِ جناح میں کشیدگی اور شیلنگ
سنیچر اور اتوار کی درمیان شب رات گئے پولیس اور پی ٹی آئی کے کارکنان کے درمیان باغِ جناح میں تصادم ہوا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ پولیس نے رات گئے انہیں جلسہ گاہ میں جلسے کی تیاری سے روکنے کی کوشش کی ہے، اور کارکنان پر لاٹھی چارج کیا گیا۔
رات پیش آنے والے واقعے کے بعد اتوار کی صبح سے ہی کراچی کے مختلف علاقوں سے تحریک انصاف کے کارکنان ریلیوں کی صورت میں باغ جناح پہنچنا شروع ہوئے، اطراف کی سڑکوں کی بندش اور جلسہ گاہ میں جانے سے روکنے پر ایک بار پھر پولیس اور تحریک انصاف کے کارکنان آمنے سامنے آئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کارکنوں کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا جس کے بعد حالات قابو میں رکھنے کے لیے کارروائی کی گئی۔ پولیس کی جانب سے باغ جناح میں شیلنگ کا سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا جبکہ مظاہرین منتشر ہوتے رہے۔
پی ٹی آئی کارکنوں کا موقف ہے کہ وہ جلسہ گاہ کی جانب پرامن انداز میں جا رہے تھے تاہم پولیس کارروائی کے باعث صورتحال بگڑ گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کارروائی ناگزیر تھی۔
صحافیوں پر حملے اور میڈیا کی گاڑیوں کو نقصان
کشیدہ صورت حال کے دوران صحافیوں پر حملوں اور میڈیا اداروں کی گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے واقعات بھی پیش آئے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) نے باغِ جناح اور نمائش چورنگی کے قریب صحافیوں پر تشدد اور ڈی ایس این جی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی مذمت کی ہے۔
کے یو جے (دستور) کے صدر نصراللہ چوہدری کے مطابق سیاسی کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم کے دوران فرائض کی انجام دہی میں مصروف میڈیا نمائندے تشدد کی زد میں آئے جبکہ مختلف میڈیا اداروں کی قیمتی گاڑیوں اور آلات کو نقصان پہنچایا گیا۔
یونین کے سیکریٹری ریحان خان چشتی کے مطابق خاتون رپورٹر سمیت چار کیمرہ مینوں اور ایک ڈی ایس این جی آپریٹر پر حملہ کیا گیا۔
نمائش چورنگی پر میڈیا کی گاڑیوں پر حملوں کے معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی بیانات جاری کیے ہیں۔ ترجمان پی ٹی آئی سندھ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف ایک پرامن جماعت ہے اور اگر کسی نے میڈیا پر حملہ کیا ہے تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق میڈیا عوام کی آواز ہے اور میڈیا پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن نے نجی نیوز چینل آج نیوز کی ڈی ایس این جی پر حملے کو آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔
پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج کے نام پر میڈیا اور عوامی املاک کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔
صحافیوں پر حملوں اور امن و امان کی صورتحال پر وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ کو فوری طور پر ابتدائی پولیس ایکشن سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ جدید مانیٹرنگ نظام کے ذریعے شرپسند عناصر کی نشاندہی کی جائے گی اور کسی کو امن و امان سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ریلی روٹس اور وزیراعلیٰ کا پیغام
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ایک ویڈیو پیغام میں کراچی جلسے اور ریلی کے روٹس سے متعلق تفصیلات جاری کی ہیں۔
ان کے مطابق بلدیہ ٹاؤن (ضلع کیماڑی)، بنارس چوک (ضلع ویسٹ)، گولیمار (ضلع سینٹرل) اور گرومندر سے ہوتے ہوئے کارکن باغ جناح اور مزارِ قائد کی جانب پہنچیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود جلسہ ہو گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *