مسلم کونسل آف ایلڈرز نے نئی دہلی عالمی کتاب میلے میں پہلے سمینار بعنوان ’’انسانیت کے لیے اے آئی: اخلاقی مصنوعی ذہانت پر مذہبی زاویۂ نظر‘‘ کی میزبانی کی

(اےیوایس)
Shaikh Manzoor Ahmad editor aalami urdu service
الشیخ منظوراحمد

مسلم کونسل آف ایلڈرز نے نئی دہلی عالمی کتاب میلے میں “انسانیت کے لیے اے آئی: اخلاقی مصنوعی ذہانت پر مذہبی زاویۂ نظر” کے عنوان سے اپنے پہلے سمینار کا انعقاد کیا۔ اس سمینار میں ممتاز صحافیوں اور ماہرینِ تعلیم کو یکجا کیا گیا تاکہ ایمان، اخلاقیات اور عوامی مفاد کے تناظر میں مصنوعی ذہانت (AI) کی تبدیلی آفرین قوت کا جائزہ لیا جا سکے۔ گفتگو میں اس پہلو پر بھی غور کیا گیا کہ بین المذاہب مکالمہ کس طرح سچائی، انصاف، ہمدردی اور انسانی وقار پر مبنی ایک مشترکہ اخلاقی زبان فراہم کر سکتا ہے، جو اجتماعی بہبود کے لیے مصنوعی ذہانت کی تیاری اور اس کے استعمال کی رہنمائی کرے۔

اسد مرزا، ممتاز مصنف اور صحافی، نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ٹیکنالوجیاں جو علم میں اضافہ کرتی ہیں اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں، قابلِ تحسین اور قابلِ ترغیب ہیں—بشرطیکہ ان کا استعمال ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ کیا جائے۔ انہوں نے ٹریفک مینجمنٹ، موسمیاتی موافقت (کلائمیٹ ریزیلینس)، زرعی پیداوار میں بہتری اور موسم کی پیش گوئی جیسے امید افزا استعمالات کو نمایاں کیا، ساتھ ہی اُن اوزاروں کے خطرات سے بھی خبردار کیا جو انصاف کو کمزور کر سکتے ہیں۔ مرزا نے بین المذاہب اور بین شعبہ جاتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ ماہرینِ ٹیکنالوجی، ماہرینِ اخلاقیات اور مذہبی قائدین مل کر فائدہ مند استعمال اور اخلاقی طور پر مشتبہ اطلاق کے درمیان واضح حدود متعین کر سکیں، اور خودکار نتائج پر انسانی فیصلے کو فوقیت دی جا سکے۔

پروفیسر ڈاکٹر مدثر قمر، ایسوسی ایٹ پروفیسر – جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نئی دہلی، نے تین اخلاقی ستونوں کی وضاحت کی جو مختلف روایات اور دائرۂ اختیار میں مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی کے لیے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔ پہلا ستون اخلاقی ڈیٹا کی تیاری ہے، جو تعصب سے پاک ہو اور ذمہ دارانہ طریقے سے حاصل کیا گیا ہو؛ دوسرا ستون اخلاقی پراسیسنگ ہے، جس میں توانائی اور پانی کے استعمال جیسے ماحولیاتی اخراجات کو پیشِ نظر رکھا جائے؛ اور تیسرا ستون اخلاقی استعمال ہے، جسے فردی، سماجی اور حکومتی سطحوں پر مؤثر حفاظتی انتظامات کے ذریعے یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ اصول مذہبی تعلیمات میں وسیع پیمانے پر ہم آہنگی رکھتے ہیں اور بین المذاہب تعاون کے لیے ایک عملی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جس کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت منصفانہ، پائیدار اور انسانی حقوق کے مطابق ہم آہنگ رہے۔

سنجے کپور، صدر – ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا، نے اس امر پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی اس صلاحیت کے پیشِ نظر کہ وہ بظاہر قابلِ یقین مگر درحقیقت من گھڑت بیانیے تخلیق کر سکتی ہے،اس کے لیے ایک  تنقیدی انسانی نگرانی نیز متنوع و واضح ضابطہ جاتی طریقۂ کار کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نےخانہائے اخبار( نیوز رومز )کی ابھرتی ہوئی حقیقتوں کی جانب بھی اشارہ کیا، جہاں اے آئی نہایت تیزی سے اعلیٰ معیار کا متن تیار کر سکتی ہے، مگر اکثر اس میں وہ انسانی زاویۂ نظر اور جذباتی باریک بینی موجود نہیں ہوتی جس پر قارئین اعتماد کرتے ہیں۔

کپور نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اصل رپورٹنگ اور سخت گیر حقائق کی جانچ میں دوبارہ سرمایہ کاری کریں، اور یہ دلیل پیش کی کہ اخلاقی اصولوں اور سچائی و ذمہ داری کے حوالے سے بین المذاہب عزم سے تشکیل پانے والے قدروں پر مبنی ادارتی معیارات  ’الگورتھمی مواد کے دور میں ‘ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔

سیمینار میں شریک افراد نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت (AI) ابھی ایک نسبتاً نوخیز مرحلے میں ہے، تاہم بین المذاہب تعلقات اور مکالمے میں اس کا براہِ راست کردار ابھی ابتدائی ہونے کے باوجود نہایت امید افزا ہے۔ محتاط انسانی نگرانی کے ساتھ، اے آئی مذہبی پیغامات کے تقابلی مطالعے کو سہل بنا سکتی ہے، متون کے ترجمے اور تشریح کو بہتر کر سکتی ہے، اور مختلف روایات میں مشترک عالمی اخلاقی اقدار کو نمایاں کر کے عالمی فہم و ادراک کو فروغ دے سکتی ہے۔

اجلاس کے اختتام پر پینل کے اراکین نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت کی بے پناہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ مضبوط ضابطہ سازی، اے آئی پر مبنی سافٹ ویئرز کو بنانے والوں کی ذمہ داری، ادارہ جاتی ضابطۂ اخلاق اور چوکَنّی انسانی نگرانی کا ہونا ناگزیر ہے۔ سب سے بڑھ کر، انہوں نے اس حقیقت کی توثیق کی کہ بین المذاہب مکالمہ ایک نہایت اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو تکنیکی جدّت کو دیرپا اخلاقی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے—تاکہ مصنوعی ذہانت تمام انسانوں کے وقار، فلاح و بہبود اور ہمہ جہت نشوونما کو آگے بڑھا سکے۔

نئی دہلی عالمی کتاب میلے میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کی شرکت اس پختہ یقین سے جنم لیتی ہے کہ علم اور ثقافت افہام و تفہیم کو فروغ دینے، تقسیم اور انتشار کا مقابلہ کرنے، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، اور عالمی مسائل سے نمٹنے میں مذہبی اور فکری اداروں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے بنیادی ستون ہیں، نیز یہی عناصر معاشروں کے درمیان ابلاغ اور مکالمے کے پل تعمیر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

نئی دہلی عالمی کتاب میلے میں کونسل کا پویلین بھارت منڈپم، ہال نمبر 4، پویلین H-06 میں واقع ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *