(دسمبر29اےیوایس)
نئی دہلی۔ پاکستان مئی کی وہ اندھیری رات کبھی نہیں بھولے گا جب بھارتی فوجیوں نے سرحد پار کر کے عاصم منیر اور شہباز شریف کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہندوستانی فوج کی فیصلہ کن کارروائی کے باوجود، پاکستان، جو مہینوں سے “سب ٹھیک ہے” کا دعویٰ کر رہا تھا، بالآخر حقیقت قبول کرنے پر مجبور ہوگیا ۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کھلے عام اعتراف کیا ہے کہ ہندوستان کے خوفناک حملوں سے پاکستان کے فوجی ڈھانچے کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ راولپنڈی کے نور خان ایئربیس سے ٹکرانے والے بھارتی ڈرونز کی دھاڑ اب اسلام آباد کی سڑکوں پر بھی گونج رہی ہے۔ یہ محض فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ 22 اپریل کو پہلگام میں ہلاک ہوئے 26 بے گناہ شہریوں کے خون کا بدلہ تھا۔ آپریشن سندور کے ذریعے بھارتی فوج نے واضح کیا کہ بھارت اب صرف سخت الفاظ میں مذمت نہیں کرتا بلکہ منھ توڑ جواب دینے کے لیے ملک میں داخل ہوتا ہے۔
80 ڈرونز اور پاکستان کی بے بسی
اسحاق ڈار نے اپنی سال کے آخر کی پریس بریفنگ میں جو انکشافات کیے ہیں وہ پاکستان کی فوج کی کمزوری کی گواہی دیتے ہیں۔ ڈار کے مطابق بھارت نے صرف 36 گھنٹوں میں 80 سے زائد ڈرون پاکستانی حدود میں بھیجے۔ تاہم پاکستان نے ہمیشہ کی طرح جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے 79 ڈرون مار گرائے ۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ان ڈرون حملوں نے نور خان ایئربیس جیسے حساس مقامات کو تباہ کردیا ۔ 10 مئی کی صبح، بھارتی ڈرونز نے راولپنڈی کے آسمان پر گشت کیا، جس سے پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت خوف کے عالم میں آدھی رات میں میٹنگیں کر رہی تھی۔
” آپریشن سندور” میں 11 ایئربیس پر حملہ کیا گیا
بھارت کا ’’آپریشن سندور‘‘ صرف ایک اڈے تک محدود نہیں تھا۔ ہندوستانی فضائیہ اور فوج نے مشترکہ طور پر پاکستان کے متعدد ائیر بیسوں کو نشانہ بنایا۔ ان میں سرگودھا، رفیقی، جیکب آباد اور مریدکے جیسے اہم مقامات شامل تھے۔ 7 مئی کی اولین ساعتوں میں شروع ہونے والے اس آپریشن نے پہلے پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں سرگرم نو دہشت گرد کیمپوں کو تباہ کیا اور پھر پاکستانی فوج کے اڈوں کو نشانہ بنایا جو دہشت گردوں کو رسد اور تربیت فراہم کرتے تھے۔
138 اموات کا سچ
پاکستان بھلے ہی “معمولی نقصان” کا دعویٰ کر رہا ہو، لیکن ہندوستانی فوج کے تجربہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) KJS Dhillon نے اس جھوٹ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ثبوت کے طور پر، ڈھلن نے پاکستان کے سماء ٹی وی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا، جس نے یوم آزادی پر 138 افراد کی فہرست جاری کی جنہیں بعد از مرگ بہادری ایوارڈز سے نوازا گیا۔ یہ تمام لوگ آپریشن سندور کے دوران مارے گئ تھے ے۔ اگر نقصانات معمولی تھے تو یہ تابوت کس کے تھے؟ نور خان بیس سے اٹھنے والے شعلوں کی شہری ویڈیوز نے تباہی کے ہولناک منظر کو واضح طور پر دکھایا۔
نیا ہندوستان، نیا جواب
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اعتراف کیا کہ جنرل عاصم منیر نے انہیں ذاتی طور پر رات کے حملے سے متعلق آگاہ کیا تھا ۔ پاکستان کا یہ اعتراف بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت اور زیرو ٹالرنس کی پالیسی کو واضح کرتا ہے۔ آپریشن سندورنے نہ صرف دہشت گردوں کے آقاؤں کو سبق سکھایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سکیورٹی نظام کو بھی بے نقاب کر دیا۔