تمل ناڈو میں شراب کی دکانوں کا معاملہ ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے۔ وہاں کی عوام کافی دنوں سے مطالبہ کر رہی تھی کہ اسکول-کالج اور مذہبی مقامت کے پاس موجود شراب کی دکانوں کو بند کر دیا جائے۔
تمل ناڈو کے نومنتخب وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجے نے اہم فیصلہ لیا ہے۔ انہوں مذہبی مقامات، تعلیمی اداروں اور بس اڈوں کے 500 میٹر کے دائرے میں واقع 717 ’ٹی اے ایس ایم اے سی‘ شراب کی دکانوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ سرکاری حکم میں کہا گیا ہے کہ اگلے 2 ہفتوں کے اندر اس پر عمل درآمد ہو جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ تمل ناڈو میں شراب کی دکانوں کا معاملہ ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے۔ وہاں کی عوام کافی دنوں سے مطالبہ کر رہی تھی کہ اسکول-کالج اور مذہبی مقامت کے پاس موجود شراب کی دکانوں کو بند کر دیا جائے، لیکن ان سے ہونے والی آمدنی کو لے کر حکومتیں اس کے متعلق کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا پاتی تھیں۔ حالانکہ ہر سیاسی پارٹی خواہ وہ ڈی ایم کے ہو یا اے آئی اے ڈی ایم کے سب نے تمل ناڈو میں شراب بندی کا وعدہ اپنے انتخابی منشور میں کیا تھا لیکن اس پر ٹھوس قدم نہیں اٹھائے جا سکے۔
قابل ذکر ہے کہ وجے تھلاپتی نے راہل گاندھی کی موجودگی میں 10 مئی کو تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لیا۔ گورنر وشوناتھ آرلیکر نے انہیں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ وزیر اعلیٰ بنتے ہی انہوں نے ریاست میں 200 یونٹ مفت بجلی اور خواتین کو بس میں مفت سفر جیسے کئی بڑے اعلان کر دیے تھے، اس کے علاوہ انہوں نے اسٹالن حکومت کی مالیاتی تحقیقات کے لیے ’وائٹ پیپر‘ بھی جاری کر دیا تھا۔