واشنگٹن/تہران : امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے بیچ امن کی امیدیں اب تقریباً ختم ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز صاف کر دیا کہ ایران کے ساتھ ایک ماہ سے جاری سیزفائر کی کوششیں اب “میسیو لائف سپورٹ” پر ہیں۔ یعنی یہ ڈیل کسی بھی وقت دم توڑ سکتی ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے جوابی تجویز کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے اپنی جارحانہ حکمتِ عملی کا اعلان کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے اوول آفس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اُن کے پاس ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا اب تک کا سب سے بہترین منصوبہ ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ میرا پلان کیا ہے؟ میرا پلان بہت سادہ ہے۔ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہو سکتے۔ بس یہی پلان ہے اور ہم انہیں یہ حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کو “آرمی پاور” بتایا اور کہا کہ ایران فوجی طور پر مکمل طور پر ہار چکا ہے۔
ایران کی شرائط: سرِعام سرنڈر نہیں کریں گے
رائٹرز کے مطابق امریکہ نے تجویز دی تھی کہ وسیع مذاکرات سے پہلے جاری لڑائی کو فوراً روکا جائے۔ لیکن ایران نے اس کے جواب میں ایسی شرائط رکھ دیں جنہیں ٹرمپ نے “بکواس” قرار دیا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران نے امریکی تجویز کو “خودسپردگی” مانا ہے۔ اس کے بدلے ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ جنگ سے ہونے والے نقصان کا معاوضہ ادا کرے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول ہو۔ تمام اقتصادی پابندیاں فوراً ہٹائی جائیں۔ ضبط کی گئی ایرانی جائیداد اور تیل کی فروخت پر لگی پابندی ختم کی جائے۔
‘پروجیکٹ فریڈم’ دوبارہ شروع؟
ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ اگر ایران اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تو وہ “پروجیکٹ فریڈم” دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے “ٹروتھ سوشل” پر لکھا کہ ایران کا جواب “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” ہے۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران وقت گزاری کی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے اور افزودہ یورینیم ہٹانے کے اپنے پرانے وعدے سے مکر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “وہ جھکیں گے، میں اُن سے اُس وقت تک نمٹوں گا جب تک وہ صحیح ڈیل نہیں کر لیتے۔”