توقع ہے کہ رواں مالی سال میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 4.6 بلین ڈالر تک پہنچ جائیں گی، وزیرِ اعظم کے دفتر نے حکومتی کوششوں پر زور دیتے ہوئے پیر کو بتایا۔ ملک کے لیے زرِ مبادلہ لانے والے تیز ترین رفتار سے بڑھتے ہوئے ایک ذریعے کو توسیع دینے کے لیے اس وقت حکومت کوششوں میں مصروف ہے۔
پاکستان کا آئی ٹی اور آئی ٹی سے چلنے والی خدمات کا شعبہ حالیہ برسوں میں معیشت کے ایک بڑے ستون کے طور پر ابھرا ہے جس نے ادائیگیوں کا توازن بہتر اور ملک کے بیرونی کھاتے پر دباؤ کم کرنے میں مدد کی ہے۔ اس شعبے نے مالی سال 2025 میں برآمدات میں 3.8 بلین ڈالر کا ریکارڈ قائم کیا جو سال بہ سال 18 فیصد زیادہ ہے جبکہ ماہانہ برآمدات دسمبر 2025 میں پہلی بار 400 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔
ڈیجیٹل خدمات کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب، فری لانسرز کی ایک بڑی افرادی قوت اور اُن پالیسی اقدامات سے صنعت کو فائدہ ہوا ہے جن کا مقصد برآمد کنندگان کو اپنی آمدن سرکاری چینلز کے ذریعے بھیجنے کی ترغیب دینا ہے۔ اس سال کے شروع میں جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے سات مہینوں میں آئی سی ٹی کی برآمدی ترسیلات تقریباً 20 فیصد بڑھ کر 2.61 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔
وزیرِ اعظم نے اسلام آباد میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام سیکٹر سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کی جہاں حکام نے انہیں برآمدات کی نمو، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع اور حالیہ پیش رفت بشمول فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کے بارے میں بریفنگ دی۔ اس کے بعد ان کے دفتر نے ایک بیان میں کہا، “رواں مالی سال پاکستان کو آئی ٹی برآمدات سے 4.5 سے 4.6 بلین ڈالر حاصل ہونے کی توقع ہے۔ آئی ٹی سیکٹر کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلقہ برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔”
بیان میں کہا گیا کہ پورے ملک میں گھریلو انٹرنیٹ کنیکشنز کی تعداد بڑھ کر 2026 میں 5.1 ملین ہو گئی جو 2024 میں 1.9 ملین تھی۔
پاکستان کو حال ہی میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی سے 509 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی جسے حکام نے 2016 کے بعد دنیا کی سب سے بڑی نیلامی قرار دیا۔
وزیرِ اعظم کے دفتر نے کہا، اسلام آباد میں مفت انٹرنیٹ ہاٹ سپاٹ کے منصوبے تکمیل کے قریب ہیں جبکہ دارالحکومت کے فاطمہ جناح پارک اور سیدپور ماڈل ولیج میں ای لرننگ پوڈز لگائے جا رہے ہیں۔