پاکستان اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری بیان کے مطابق 2.45 بلین ڈالر کی رقم پہلے ہی یو اے ای کو دے دی گئی تھی، اب ایک بلین ڈالر کی آخری قسط بھی دے دی گئی ہے۔ یہ پیسے 2 دن قبل سعودی نے پاکستان کو دیے تھے۔
یو اے ای کو قرض ادا کیے جانے کی جانکاری پاکستان اسٹیٹ بینک نے دی ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ اس نے مقرر کردہ ڈیڈلائن سے پہلے ہی یو اے ای کا مکمل قرض ادا کر دیا ہے۔ یو اے ای نے پاکستان کو اس ماہ کے آخر تک 3.45 بلین ڈالر کی رقم ادا کرنے کا وقت دیا تھا۔ یہ پیسے پاکستان نے 2019 کے دوران یو اے ای سے قرض کی شکل میں لیے تھے۔ پاکستان اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری بیان کے مطابق 2.45 بلین ڈالر کی رقم پہلے ہی یو اے ای کو دی جا چکی تھی، اور اب ایک بلین ڈالر کی آخری قسط بھی دے دی گئی ہے۔ یہ پیسے 2 دن قبل ہی پاکستان کو سعودی عرب نے دیے تھے۔
غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور ترکیے کے ساتھ اتحاد بنا رہا ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں یو اے ای کے خلاف ہے۔ فوراً قرض کا پیسہ مانگنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی نے ہی یو اے ای کے قرض کو ادا کرنے کے لیے پاکستان کو پیسے دیے ہیں۔ یعنی پاکستان اور یو اے ای کے درمیان رشتے آنے والے دنوں میں مزید خراب ہو سکتے ہیں۔