(اےیوایس)
ایک طرف آئی آر جی سی نے واضح طور پر کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنا ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے ایران کے بندرگاہوں پر ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کے بعد عمان گئے۔ وہاں انہوں نے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کی، اس دوران آبنائے ہرمز اور علاقائی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ہرمز سے وابستہ ممالک کو مل کر یہ یقینی بنانا چاہیے کہ یہ راستہ محفوظ رہے، کیونکہ اس سے دنیا کو فائدہ ہوتا ہے۔ 3 ہفتہ قبل آئی ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران عمان کے ساتھ مل کر ہرمز میں ایک ٹول بوتھ بنانے والا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کا ایک سرا عمان میں ہے۔ ایران کو ڈر ہے کہ امریکہ، عمان میں بیس بنا سکتا ہے اس لیے وہ ٹول کا پیسہ عمان کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہے۔