’برکس پلس اجلاس‘ بغیر مشترکہ اعلامیہ کے ختم، کانگریس نے حکومت پر اسرائیل کے حق میں مؤقف نرم کرنے کا لگایا الزام

(اےیوایس)

حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ مشترکہ اعلامیہ نہ آنے کی ایک بڑی وجہ ہندوستان کی جانب سے اسرائیل اور فلسطین سے متعلق بیان کی زبان کو نرم کرنے پر اصرار تھا، جسے دیگر رکن ممالک نے قبول نہیں کیا۔

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ہندوستان دنیا کا واحد بڑا ملک ہے جو اسرائیل کے ساتھ اس قدر مضبوط یکجہتی دکھا رہا ہے، جبکہ ان کے مطابق اسرائیل غزہ میں نسل کشی، جنوبی لبنان پر شدید بمباری اور مغربی کنارے میں لاکھوں فلسطینیوں کی بے دخلی و جبری نقل مکانی جیسے اقدامات میں ملوث ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان قریبی تعلقات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں لیڈران ایک دوسرے کے ’ہم مزاج‘ دکھائی دیتے ہیں، اور اسرائیل اب مبینہ طور پر ایک بڑے اقتصادی نیٹورک کا بھی حصہ بنتا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ برکس+ اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ کا نہ آنا سفارتی سطح پر ایک غیر معمولی صورتحال سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ ایسے اجلاس عموماً متفقہ مؤقف کے ساتھ اختتام پذیر ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف برکس+ کے اندرونی اختلافات کو ظاہر کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر مغربی ایشیا کے مسئلے پر بڑھتی ہوئی تقسیم کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *