زیمپولی نے فائنانشیل ٹائمز کو بتایا’’میں تصدیق کرتا ہوں کہ میں نے ٹرمپ اور (فیفا صدر جیانی) جیانی انفینیٹو کو تجویز دی ہے کہ ورلڈ کپ میں ایران کی جگہ اٹلی کو شامل کیا جائے۔ میں اطالوی نژاد ہوں اور امریکہ میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں ازوری (اطالوی ٹیم) کو دیکھنا ایک خواب ہوگا۔ چار ٹائٹلز کے ساتھ، ان کے پاس شمولیت کا جواز موجود ہے۔‘‘
دوسری جانب، ایران نے کہا ہے کہ وہ ۲۰۲۶ء کے فیفا ورلڈ کپ میں اپنی قومی فٹبال ٹیم کی شرکت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ حکومتی ترجمان فاتح مہاجیرانی نے بدھ کو یہ بات کہی۔ سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی سے گفتگو کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ وزارتِ نوجوانان و کھیل نے ٹیم کی مؤثر شرکت کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
ایران آ رہا ہے
اگرچہ فیفا نے اس مبینہ لابنگ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم جیانی انفینٹینو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایرانی ٹیم کے شرکت کرنے کی توقع ہے۔انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک کانفرنس کے دوران کہا’’ایرانی ٹیم ضرور آ رہی ہے۔‘‘ اس سے قبل، میکسیکو نے تصدیق کی تھی کہ فیفا نے ایران کے میچز کو امریکہ کے جنوبی ہمسائے منتقل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ایران نے امریکہ-اسرائیل جنگ کے بعد اپنے میچز میکسیکو منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔ایران کو گروپ جی میں اپنے تمام میچز جن میںبلجیم ، مصر اور نیوزی لینڈ شامل ہیں، اسے سبھی میچ امریکہ میں کھیلنے ہیں۔ فیفا کی ویب سائٹ کے مطابق، ایران ۱۵؍ جون کو لاس اینجلس اسٹیڈیم میں نیوزی لینڈ، ۲۱؍ جون کو اسی مقام پربلجیم اور ۲۶؍ جون کو سیئٹل اسٹیڈیم میں مصر کے خلاف کھیلے گا۔