پہلے مرحلے کی پولنگ کیلئے تمام تیاریاں مکمل، ۱۶؍ اضلاع کی ۱۵۲؍ سیٹوں پر آج ووٹنگ،سیکوریٹی کے انتہائی سخت انتظامات
پہلے مرحلے میں کم از کم ۸۰؍ نشستوں پر حکمراں ترنمول کانگریس اور اہم اپوزیشن جماعت بی جے پی کے درمیان براہِ راست مقابلہ مانا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی حلقوں میں سہ رخی اور کثیر رخی مقابلے بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں کیونکہ اس مرتبہ بایاں محاذ اور کانگریس الگ الگ میدان میں اترے ہیں جبکہ کچھ مذہبی تنظیمیں بھی انتخابی میدان میں اتر آئی ہیں، جس سے پہلے مرحلے کا مقابلہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔
اس مرحلے میںجن اضلاع میں ووٹنگ ہوگی ان میں دارجلنگ، کالیمپونگ، جلپائی گوڑی، علی پور دوار، کوچ بہار، شمالی اور جنوبی دیناج پور، مالدہ، مرشد آباد، بیر بھوم، مغربی بردھمان، پرولیا، بانکورا، جھاڑگرام اور مشرقی و مغربی مدنا پور شامل ہیں۔ اس مرحلے میں مجموعی طور پرایک ہزار ۴۷۸؍ امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔سیکوریٹی کے لحاظ سے غیر معمولی انتظامات کئےگئے ہیں۔ تقریباً۲؍ ہزار ۴۰۷؍کمپنیوں پر مشتمل مرکزی مسلح پولیس فورس تعینات کی گئی ہے، جن میں ۲ء۸؍ لاکھ سے زائد اہلکار شامل ہیں۔ ۷؍ ہزار ۳۸۴؍ پولنگ مراکز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جہاں اضافی نگرانی رکھی جائے گی جبکہ فوری کارروائی کرنے والی ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے فوری نمٹا جا سکے۔ووٹرس کی سہولت کے لئے خصوصی انتظامات بھی کئے گئے ہیں جن میں بریل سہولت والی الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں، ریمپ، معذور اور بزرگ ووٹرس کے لئے ترجیحی قطاریں شامل ہیں۔ شکایات کے لئے ٹول فری نمبر اور ای میل کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
اس انتخاب میں ووٹرلسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی کو لے کر سیاسی تنازع بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ حکمراں ترنمول کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ اس عمل کے ذریعے ایک مخصوص طبقے کے نام فہرست سے نکالے جا رہے ہیںجبکہ بی جے پی کامؤقف ہے کہ یہ فرضی ووٹروں کو ہٹانے کی کارروائی ہے۔ اس کی وجہ سے کئی دنوں تک کورٹ میں بھی سماعت ہوئی ہے اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی خود جرح بھی کرچکی ہیں۔ واضح رہے کہ تقریباً ۹۱؍ لاکھ نام ووٹر فہرست سے خارج کئے گئے ہیں تاہم ’’منطقی تضاد‘‘ جیسے نئے معیار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جس کے تحت ناموں کے املا، عمر اور دیگر تفصیلات میں فرق کی بنیاد پر چھان بین کی گئی ہے۔مجموعی طور پر مغربی بنگال میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ سخت سیکوریٹی، سیاسی کشمکش اور عوامی دلچسپی کے باعث نہایت اہم اور سنسنی خیز سمجھی جا رہی ہے جس کے نتائج آئندہ سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ سابقہ ۲؍ الیکشن کی طرح اس انتخاب میں بھی بی جےپی کے پاس ممتا کے مقابل کوئی چہرہ نہیں ہے۔ سویندو ادھیکاری ضرور مقامی سطح پر بی جے پی کا چہرہ ہیں لیکن انہیں وزارت اعلیٰ کا امیدوار نہیں بنایا گیا ہے اوریہ غلطی اس مرتبہ بھی بی جے پی کو بھاری پڑسکتی ہے۔