لبنانی سول ڈیفنس کے مطابق، بعد میں ملبے سے امل خلیل کی لاش نکالی گئی، جبکہ زینب فراج کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا۔ لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’واضح جنگی جرم‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور لبنان اس معاملے کو عالمی عدالتوں میں لے جائے گا۔ اسی طرح لبنان کے وزیر اطلاعات پال مورکس نے کہا کہ یہ حملہ ’’گھناؤنا جرم‘‘ ہے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا کہ جنوبی لبنان میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات نہایت تشویشناک ہیں اور اگر امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے کے شواہد درست ثابت ہوئے تو یہ جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، امل خلیل کو اس سے قبل بھی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ الجزیرہ کی نامہ نگار کے مطابق ۲۰۲۴ء کی جنگ کے دوران انہیں ایک اسرائیلی نمبر سے واٹس ایپ پر دھمکی دی گئی تھی کہ وہ اپنی رپورٹنگ بند کریں۔ لبنان کے پریس کلب نے بھی ایک بیان میں کہا کہ خلیل نے ’’اپنے نظریے اور سچ کی خاطر جان قربان کی‘‘، اور اس حملے کو اسرائیل کی جانب سے صحافیوں کو نشانہ بنانے کی ایک ’’منظم مہم‘‘ قرار دیا۔
یاد رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور میڈیا کی آزادی اور سلامتی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر صحافیوں کو جنگی علاقوں میں محفوظ نہ رکھا گیا تو معلومات کی آزادانہ ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے عالمی اثرات مرتب ہوں گے۔