بعد ازاں ٹرمپ نے کہا، ’’وینزویلا کے لوگ کہتے ہیں کہ اگر میں وینزویلا کے صدر کے لیے انتخاب لڑوں، تو میں ملک کی تاریخ میںسب سے زیادہ مقبول ہوں گا، تو جب میں یہ (صدارت) مکمل کر لوں، میں وینزویلا جا سکتا ہوں۔‘‘مزید برآں انہوں نے کہا کہ ’’میں جلدی سے ہسپانوی زبان سیکھ لوں گا۔ زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ میں زبانوں میں اچھا ہوں، اور میں وینزویلا جاؤں گا۔ میںعہدئہ صدارت کے لیے انتخاب لڑوں گا۔ لیکن ہم اپنے موجودہ منتخب صدر سے بہت خوش ہیں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ مہینے ہی، لاطینی امریکی لیڈروں کے اجلاس کے دوران، ٹرمپ نے اصرار کیا تھا کہ ان کا کوئی ارادہ نہیں کہ کوئی نئی زبان سیکھیں۔ انہوں نے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو (جن کے والدین کیوبا کے تارکین وطن تھے) کے بارے میں کہاتھا کہ ،’’اسے مجھ پر زبان کی برتری ہے، `کیونکہ میں تمہاری لعنتی زبان نہیں سیکھ رہا۔ میرے پاس وقت نہیں ہے۔‘‘ تاہم کیا ٹرمپ وینزویلا کی صدارت کی طرف نگاہیں جمائے ہوئے ہیں؟یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے وینزویلا کی صدارت کا خیال پیش کیا ہو۔ دراصل گزشتہ مہینے کے آخر میں کابینہ کے اجلاس میں، انہوں نے قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز کے خلاف الیکشن لڑنے کے امکان کو پیش کیااور اسے ایک شاندار متبادل قرار دیاتھا۔