تہران میں شریف یونیورسٹی پر امریکی-اسرائیلی حملہ، عالمی سطح پرغم و غصے میں اضافہ
ہیومن رائٹس واچ کے سابق ڈائریکٹر کینتھ روتھ نے کہا کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے اور اسے’’غزہ کی طرحُ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا:’’اسرائیل نے ایران کی ممتاز شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کو نشانہ بنایا، جو تہران اور اصفہان میں گزشتہ ہفتے کے دوران ایرانی جامعات پر حملوں کا تسلسل ہے، اور یہ ایرانی معاشرے کی جنگی جرم کے طور پر تباہی کی کوشش ہے۔ ‘‘ ہندوستان کے نیشنل ہیرالڈ اخبار نے اس حملے کو ’امریکہ-اسرائیل کا ایک اور جنگی جرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔ اداریے میں کہا گیا کہ شریف یونیورسٹی نے بین الاقوامی شہرت یافتہ اسکالرز پیدا کئےہیں، جن میں فیلڈز میڈل جیتنے والے بھی شامل ہیں۔
معروف امریکی ماہر تعلیم ولی نصر نے کہا کہ شریف یونیورسٹی جدیدیت اور ترقی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا:’’اس کے فارغ التحصیل طلبہ میں ریاضی میں فیلڈز میڈل جیتنے والی پہلی خاتون، مریم میرزاخانی بھی شامل ہیں۔ یہ ایک قومی علامت رہی ہے اور اس کے فارغ التحصیل طلبہ کو مغربی دنیا کے بہترین انجینئرنگ پروگرامز میں داخلہ ملا ہے۔ اس طرح کی بے دریغ تباہی کا مقصد صرف ایران قوم کو نشانہ بنانا ہو سکتا ہے۔ ‘‘واشنگٹن میں قائم کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو نائب صدر اور جیو پولیٹیکل ماہر تریتا پارسی نے اس حملے کو’شرمناک‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا:’’امریکہ/اسرائیل نے تہران میں شریف یونیورسٹی کو بمباری کا نشانہ بنایا۔ یہ نہ صرف ایران کی بہترین یونیورسٹی ہے بلکہ سول انجینئرنگ کے شعبے میں دنیا کی ٹاپ۱۰۰؍ یونیورسٹیوں میں شامل ہے۔ ‘‘
بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی
سوشل میڈیا پر مختلف ممالک کے صارفین نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔ ۱۰۰؍ سے زائد امریکی قانونی ماہرین اور بین الاقوامی وکلاء نے ایک کھلا خط بھی جاری کیا ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ جامعات اور شہری ڈھانچے پر بار بار حملے بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگی جرائم ہو سکتے ہیں۔ اوونا اے ہیتھاوے، فلپ السٹن، جوناتھن ٹریسی اور ولیم جے ایسیوس جیسے افراد اس خط کے دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔ بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کی صدر میرجانا سپولیارچ نے بھی شہری اہداف کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا:’’ضروری بنیادی ڈھانچے کی وسیع تباہی ہو چکی ہے اور کوئی بھی جنگ جو حدود کے بغیر لڑی جائے، قانون کے خلاف اور ناقابل دفاع ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’ریاستوں کو جنگ کے قوانین کا احترام کرنا چاہئے۔ دنیا ایسی سیاسی ثقافت کو قبول نہیں کر سکتی جو زندگی پر موت کو ترجیح دے۔ میں فریقین سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ تمام فوجی کارروائیوں میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو محفوظ رکھیں۔ یہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ان کی ذمہ داری ہے۔ ‘‘
ایرانی ردعمل
ایرانی حکام نے شریف یونیورسٹی پر حملے کی سخت مذمت کی۔ نائب صدر محمد رضا عارف نے اسے ’ٹرمپ کی دیوانگی اور جہالت کی علامت‘ قرار دیا اور کہا کہ ایران کی سائنسی صلاحیت کو فوجی کارروائی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ سائنس کے وزیر حسین سیمائی سراف نے اس حملے کو ’انسانیت کے خلاف جرم‘ قرار دیا۔ شریف یونیورسٹی کے صدر مسعود تاجریشی نے کہا کہ ادارہ تباہی کے باوجود دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ پر’جنگی جرائم کی ترغیب‘ دینے کا الزام لگایا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا:’’امریکہ-اسرائیل حملہ آوروں نے ایران کے ایم آئی ٹی کو بمباری کا نشانہ بنایا۔ یہ دیگر جامعات پر حملوں کا تسلسل ہے۔ ‘‘انہوں نے خبردار کیا:’’حملہ آور ہماری طاقت دیکھیں گے۔ ‘‘