رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید بحث دیکھنے میں آئی۔ ایک صارف نے لکھا، ’’اگر چند افراد کی دولت اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ عام لوگ قرضوں میں ڈوب رہے ہیں، تو ویلتھ ٹیکس ناگزیر ہو چکا ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ، ’’۶۲۵؍ فیصد اضافہ کسی ایک شخص کی کامیابی نہیں بلکہ ایک ناکام معاشی نظام کی علامت ہے۔‘‘
کئی صارفین نے اڈانی اور امبانی کی دولت کو عوامی فلاح سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ’’صرف ۲؍ فیصد ویلتھ ٹیکس سے ملک کے لاکھوں طلبہ کو مفت تعلیم اور خواتین کو مالی امداد فراہم کی جا سکتی ہے۔‘‘ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، ’’اگر ۲؍ فیصد ٹیکس سے صحت، تعلیم اور ایل پی جی سبسڈی ممکن ہے تو حکومت کیوں خاموش ہے؟‘‘ بعض صارفین نے حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ’’پالیسیز امیروں کو مزید امیر اور غریبوں کو مزید کمزور بنا رہی ہیں۔‘‘ جبکہ ایک اور صارف نے لکھا، ’’یہ وقت ہے کہ پارلیمنٹ ویلتھ ٹیکس پر سنجیدگی سے غور کرے، ورنہ عدم مساوات ایک بڑے سماجی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔‘‘
دوسری جانب کچھ صارفین نے اس مطالبے کی مخالفت بھی کی۔ ایک رائے میں کہا گیا، ’’ویلتھ ٹیکس سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور معیشت کی رفتار کو سست کر سکتا ہے۔‘‘ جبکہ ایک اور صارف نے دلیل دی کہ ’’مسئلہ ٹیکس نہیں بلکہ وسائل کی بہتر تقسیم اور حکومتی اخراجات کی شفافیت ہے۔‘‘ اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ دولت رکھنے والے افراد کی تعداد میں ۷۷؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی عرصے میں گھریلو قرض تقریباً دوگنا ہو کر ۶ء۱۳۶؍ لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشی ترقی کے فوائد یکساں طور پر تقسیم نہیں ہو رہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بحث صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہے گی بلکہ آئندہ دنوں میں پالیسی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے ابھی تک ویلتھ ٹیکس کے حوالے سے کوئی واضح اشارہ نہیں دیا گیا، لیکن عوامی دباؤ میں اضافہ اس معاملے کو قومی ایجنڈے پر لا سکتا ہے۔