۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۵ء تک اڈانی کی دولت میں ۶۲۵؍ اضافہ، ویلتھ ٹیکس کا مطالبہ زور پکڑ گیا

(اےیوایس)

ہندوستان میں دولت کی غیر مساوی تقسیم پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ارب پتی گوتم اڈانی کی دولت میں ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان ۶۲۵؍ فیصد اضافہ ہوا۔ اسی دوران مکیش امبانی کی دولت بھی نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے امیروں پر ویلتھ ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ تیز کر دیا ہے، جبکہ ماہرین نے بڑھتی عدم مساوات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

ہندوستان میں بڑھتی معاشی عدم مساوات ایک بار پھر بحث کے مرکز میں آ گئی ہے، جب ایک نئی تحقیق نے انکشاف کیا کہ ارب پتی گوتم اڈانی کی دولت میں ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان حیران کن ۶۲۵؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی عرصے میں مکیش امبانی کی دولت میں ۱۵۳؍ فیصد اضافہ ہوا۔ ان اعداد و شمار کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور امیروں پر ویلتھ ٹیکس عائد کرنے کی مانگ زور پکڑ گئی ہے۔ سینٹر فار فنانشیل اکاؤنٹیبیلیٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں دولت کی تقسیم انتہائی غیر متوازن ہو چکی ہے، جہاں صرف ایک فیصد افراد ۴۰؍ فیصد سے زیادہ قومی دولت پر قابض ہیں، جبکہ نچلے ۵۰؍ فیصد افراد کے پاس محض ۱۵؍  فیصد دولت ہے۔ رپورٹ میں اس صورتحال کو نوآبادیاتی دور سے تشبیہ دی گئی ہے، جس نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید بحث دیکھنے میں آئی۔ ایک صارف نے لکھا، ’’اگر چند افراد کی دولت اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ عام لوگ قرضوں میں ڈوب رہے ہیں، تو ویلتھ ٹیکس ناگزیر ہو چکا ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ، ’’۶۲۵؍ فیصد اضافہ کسی ایک شخص کی کامیابی نہیں بلکہ ایک ناکام معاشی نظام کی علامت ہے۔‘‘

کئی صارفین نے اڈانی اور امبانی کی دولت کو عوامی فلاح سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ’’صرف ۲؍ فیصد ویلتھ ٹیکس سے ملک کے لاکھوں طلبہ کو مفت تعلیم اور خواتین کو مالی امداد فراہم کی جا سکتی ہے۔‘‘ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، ’’اگر ۲؍ فیصد ٹیکس سے صحت، تعلیم اور ایل پی جی سبسڈی ممکن ہے تو حکومت کیوں خاموش ہے؟‘‘ بعض صارفین نے حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ’’پالیسیز امیروں کو مزید امیر اور غریبوں کو مزید کمزور بنا رہی ہیں۔‘‘ جبکہ ایک اور صارف نے لکھا، ’’یہ وقت ہے کہ پارلیمنٹ ویلتھ ٹیکس پر سنجیدگی سے غور کرے، ورنہ عدم مساوات ایک بڑے سماجی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔‘‘

دوسری جانب کچھ صارفین نے اس مطالبے کی مخالفت بھی کی۔ ایک رائے میں کہا گیا، ’’ویلتھ ٹیکس سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور معیشت کی رفتار کو سست کر سکتا ہے۔‘‘ جبکہ ایک اور صارف نے دلیل دی کہ ’’مسئلہ ٹیکس نہیں بلکہ وسائل کی بہتر تقسیم اور حکومتی اخراجات کی شفافیت ہے۔‘‘ اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ دولت رکھنے والے افراد کی تعداد میں ۷۷؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی عرصے میں گھریلو قرض تقریباً دوگنا ہو کر ۶ء۱۳۶؍ لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشی ترقی کے فوائد یکساں طور پر تقسیم نہیں ہو رہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بحث صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہے گی بلکہ آئندہ دنوں میں پالیسی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے ابھی تک ویلتھ ٹیکس کے حوالے سے کوئی واضح اشارہ نہیں دیا گیا، لیکن عوامی دباؤ میں اضافہ اس معاملے کو قومی ایجنڈے پر لا سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *