برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ کو جنگ کے خاتمے کے حوالے سے پلان موصول ہوا ہے جو پیر کے روز سے نافذالعمل ہو سکتا ہے اور آبنائے ہرمز بھی کھل سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے بنایا گیا فریم ورک راتوں رات امریکہ اور ایران کو بھجوایا گیا۔
سورسز کا کہنا ہے کہ اس میں فوری جنگ بندی کے علاوہ جامع معاہدے کا خاکہ بھی شامل ہے۔
vاس سے قبل ایران کے حکام نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ تہران اس ضمانت کے ساتھ مستقل جنگ بندی کا خواہاں ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس پر دوبارہ حملے نہیں کریں گے اور اس بارے میں اسے پاکستان، ترکی اور مصر سمیت دوسرے ثالثوں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
ذرائع کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حتمی معاہدے میں پابندیوں میں ریلیف اور منجمد اثاثوں کی رہائی کے بدلے میں جوہری ہتھیار نہ بنانے کے ایرانی وعدے شامل ہونے کی توقع ہے۔
اس سے قبل امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے کہا تھا کہ امریکہ، ایران اور علاقائی ثالث ممکنہ طور پر 45 روز کی جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کر رہے ہیں اور ان کی بدولت آگے چل کر جنگ کا مکمل خاتمہ بھی ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں امریکی، اسرائیلی اور خطے کے سورسز کا حوالہ دیا گیا جو بات چیت کے بارے میں واقفیت رکھتے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا تھا کہ وہ فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کرا سکا ہے اور ادارے کی جانب سے وائٹ ہاؤس اور وزارت خارجہ کی جانب سے تبصرے کے لیے بھجوائی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ثالث دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کی شرائط پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں جن میں پہلا مرحلہ 45 روز کی جنگ بندی پر مشتمل ہو گا اور اس کے دوران جنگ کے مستقل خاتمے کے حوالے سے بات چیت جاری رکھی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق بات چیت میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ اگر مذاکرات کے لیے اضافی وقت درکار ہوا تو جنگ بندی میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو وال سٹریٹ سے بات چیت کرتے ہوئے ایران کو ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے پاس آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے منگل کی شام تک کا وقت ہے اور اس کے بعد اس کو اہم انفراسٹرکچرز پر تباہ کن حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ گالم گلوج پر اُتر آئے، ہرمز نہ کھلا تو پاور پلانٹس پرحملے کا انتباہ دیا
اتوار کو ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد بھی تہران نے اپنے اس مطالبے کو دہرایا ہے کہ ’’آبنائے ہرمز اسی وقت کھلے گا جب ایران کو جنگ کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کا ہرجانہ ادا کردیا جائےگا۔ ‘‘ یہ بات سید مہدی طباطبائی نے کہی ہے جو ایران کے صدارتی دفتر کے محکمہ رابطہ عامہ کے نائب سربراہ ہیں۔ امریکی صدر کے اس غیر شائستہ اوربازاری اندازِ گفتگو پر دنیا بھر میں تنقید کی جارہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سربراہاگنس کالامار نےکہا ہے کہ ’’ میرے پاس اس کی مذمت کیلئے الفاظ نہیں ہیں۔ ‘‘ ایران کے پاور پلانٹ اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر انہوں نے متنبہ کیا کہ ’’ بجلی گھروں اور پلوں کی تباہی کا خمیازہ سب سے پہلے ایران کے عام شہری بھگتیں گے۔ نہ بجلی، نہ پانی، نہ نقل و حرکت یا فرار ہونے کی صلاحیت، اور یہ سب ان کے حق زندگی پر اثر انداز ہوگا۔ یہ نہایت قابلِ نفرت بیان ہے۔ ‘‘