اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ، خطے کی بدلتی صورتِ حال پر گفتگو

(اےیوایس)

اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ، خطے کی بدلتی صورتِ حال پر گفتگو
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سنیچر کی رات کو ہونے والی اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔
اسحاق ڈار نے خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے کی جانے والے تمام کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا اور تنازعے کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان اور ایران کے وزرا خارجہ نے خطے کی موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر قریبی رابطہ رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

پاکستان نے امریکہ ایران مذاکرات میں ’تعطل‘ کی خبریں مسترد کر دیں
________________________________________________________________________________
پاکستان نے ان خبروں کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کسی ’بریک تھرو‘ یعنی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے مقامی میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا ہے کہ وہ ایسی حساس نوعیت کی خبروں کی نشر و اشاعت میں ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ کریں۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد سے پاکستان دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی رسانی کے لیے ایک اہم ثالث یا ’گو بٹوین‘ کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اس جنگ نے نہ صرف عالمی سطح پر توانائی اور مال بردار جہازوں کی سپلائی کو متاثر کیا ہے بلکہ علاقائی معیشتوں کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
’قیاس آرائیوں سے گریز کریں‘
رواں ہفتے کے اختتام پر اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس ہوا جس کا مقصد ایران پر جاری حملوں اور خلیج میں امریکی مفادات پر تہران کے جوابی حملوں کو مستقل طور پر رکوانے کی راہ ہموار کرنا تھا۔
پاکستانی میڈیا کے ایک حصے نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ سفارتی کوششیں دو بار بڑی کامیابی کے قریب پہنچ کر اس وقت ناکام ہوئیں جب تہران نے مزید مشاورت کے لیے وقت مانگا اور آخر کار مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم سنیچر کو ترجمان دفترِ خارجہ نے ان رپورٹس کو ’بے بنیاد اور من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’علاقائی حساسیت کے اس دور میں سفارت کاری صوابدید اور ذمہ داری کی متقاضی ہے۔ ہم تمام میڈیا پلیٹ فارمز سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور صرف سرکاری بیانات پر ہی بھروسہ کریں۔‘
پاک چین پانچ نکاتی امن فارمولا
دوسری جانب سفارتی کوششوں میں تیزی لاتے ہوئے پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔
اس گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کم کرنے کے لیے ’پاک چین پانچ نکاتی اقدام‘ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیجنگ اور اسلام آباد کی جانب سے پیش کردہ اس فارمولے میں فوری جنگ بندی، امن مذاکرات کا آغاز، سویلین اور تجارتی انفراسٹرکچر بشمول بحری راستوں کے تحفظ اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور دیا گیا ہے۔
پاکستان اس سے قبل بھی واضح کر چکا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس خطرناک کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک ’پل‘ کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، تاکہ عالمی معیشت اور علاقائی امن کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *