دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ۱۹۹۳ء میں قیام کے بعد سے این ایچ آر سی کے تقریباً ۲۰؍ اراکین میں سے صرف ایک مسلمان رہا، جبکہ ادارے کے نوڈل افسران میں کسی مسلمان کی موجودگی نہیں پائی گئی۔ اسی طرح ریاستی سطح پر صورتحال بھی مختلف نہیں، جہاں اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن کے ۲۱؍ چیئرپرسنز میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں رہا، اور مجموعی طور پر ۱۸۰؍ اعلیٰ عہدیداروں میں صرف چار مسلمان شامل ہیں۔
یہ اعداد و شمار اس وسیع تر بحث کا حصہ ہیں جس میں ہندوستان میں انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یونائیٹڈ نیشنز ہیومن رائٹس کمیٹی نے جولائی ۲۰۲۴ء میں اپنی رپورٹ میں ہندوستان کے ریکارڈ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی اقلیتیں، بشمول مسلمان، عیسائی اور سکھ، کے ساتھ امتیازی سلوک اور تشدد کے واقعات تشویشناک ہیں۔ رپورٹ میں درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے خلاف بھی زیادتیوں کی نشاندہی کی گئی۔
کمیٹی نے خاص طور پر بعض قوانین، جیسے یو اے پی اے اور قومی سلامتی کے قانون کے استعمال پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ان قوانین کے تحت طویل مدت تک بغیر مقدمہ حراست انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات سے متصادم ہو سکتی ہے۔ اسی طرح آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے اطلاق پر بھی خدشات ظاہر کئے گئے، خاص طور پر منی پور، جموں کشمیر، اور آسام جیسے علاقوں میں۔
واضح ہو کہ این ایچ آر سی کو ۱۹۹۳ء میں ایک خود مختار ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ یہ ادارہ شکایات کی تحقیقات، جیلوں کے دورے، اور حکومت کو سفارشات دینے کا اختیار رکھتا ہے، تاہم اس کی سفارشات قانونی طور پر لازمی نہیں ہوتیں۔
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر ۲۰۲۳ء سے نومبر ۲۰۲۴ء کے درمیان این ایچ آر سی نے ۶۵؍ ہزار ۹۷۳؍ مقدمات درج کئے اور ۶۶؍ ہزار ۳۷۸؍ مقدمات نمٹائے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ فعال طور پر کام کر رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نمائندگی میں عدم توازن اس کی ساکھ اور اثر پذیری کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر جب بات اقلیتی گروہوں کے مسائل کی ہو۔
محمد عبد المنان کی کتاب میں بھی اس عدم نمائندگی کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ این ایچ آر سی کے چیئرپرسن، سیکرٹری جنرل اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر مسلمانوں کی شمولیت نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ اس تحقیق نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ کیا انسانی حقوق کے ادارے واقعی تمام طبقات کی نمائندگی کر رہے ہیں یا نہیں۔