آسٹریا، جو طویل عرصے سے عسکری غیر جانبداری کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے، نے امریکی پروازوں پر عمومی پابندی عائد نہیں کی، لیکن ہر درخواست کو کیس بہ کیس بنیاد پر جائزہ لے رہا ہے۔ اپوزیشن جماعت سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی (SPO) نے بھی حکومت سے کہا کہ موجودہ موقف برقرار رکھا جائے۔ سوون ہیرگووچ، ایلاؤسٹر آسٹریا میں SPO کے سربراہ نے کہا ’’وزیر دفاع کلاؤڈیا ٹینر (OVP) کو خلیج میں کسی بھی مزید امریکی فوجی پرواز کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ نہ ہی کسی ٹرانسپورٹ فلائٹ یا دیگر لوجسٹک سپورٹ کی اجازت دینی چاہئے۔ بالکل ویسے ہی جیسے اسپین، فرانس، اٹلی اور سوئزرلینڈ کر رہے ہیں۔ یہ جنگ آسٹریا کے اقتصادی مفادات، پورے یورپ، اور عالمی امن کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ‘‘
اس سے قبل اس ہفتے، اسپین نے اس تنازع سے متعلق عسکری پروازوں کیلئے اپنے فضائی حدود بند کر دیئے تھے، جبکہ اٹلی نے امریکی طیاروں کی سسلی کے ایک اڈے پر لینڈنگ کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری سے ایران پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں اب تک ۱۳۴۰؍سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔ تہران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں امریکی عسکری اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے بدلہ لیا جس سے جانی و مالی نقصان ہوا اور عالمی منڈیوں اور ہوا بازی پر اثر پڑا۔