ہندوستان میں ایرانی سفارتخانے کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کی بمباری سے’’پتھر کے زمانے میں واپس نہیں دھکیلا جا سکتا۔ ‘‘بیان میں کہا گیا:’’ہم ۷؍ ہزار سالہ تہذیب رکھنے والی قوم ہیں۔ تاریخ ہمیں اچھی طرح جانتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم ہی وہ لوگ ہو جو بچوں کے قتل اور انسانیت کے خلاف جرائم کو پتھر کے زمانے سے جدید دنیا تک لے آئے ہو۔ ‘‘
ایران کا تاریخی حوالہ دے کر جواب
ایران کے فوجی حلقوں کی جانب سے بھی اس ردِعمل کو مزید تقویت ملی۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سید مجید موسوی نے بھی سخت بیان جاری کرتے ہوئے امریکی قیادت اور اس کی فوجی حکمتِ عملی پر تنقید کی۔ انہوں نے ایکس پر امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے بیان کے جواب میں لکھا:’’یہ تم ہو جو اپنے فوجیوں کو قبروں میں بھیج رہے ہو، نہ کہ ایران، جسے تم پتھر کے زمانے میں دھکیلنا چاہتے ہو۔ ہالی ووڈ کے فریب نے تمہارے ذہنوں کو اس قدر مسموم کر دیا ہے کہ تم اپنی معمولی ۲۵۰؍ سالہ تاریخ کے ساتھ۶؍ہزار سال پرانی تہذیب کو دھمکاتے ہو۔ ‘‘
ٹرمپ کا سخت مؤقف برقرار
اپنے قوم سے خطاب میں ٹرمپ نے سخت مؤقف برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں منصوبے کے مطابق جاری ہیں اور آنے والے ہفتوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا:’’ہماری پیش رفت کی بدولت میں آج کہہ سکتا ہوں کہ ہم جلد ہی امریکہ کے تمام فوجی مقاصد حاصل کر لیں گے۔ بہت جلد۔ ہم اگلے دو سے تین ہفتوں میں ان پر بہت سخت حملے کریں گے۔ ہم انہیں وہاں واپس لے جائیں گے جہاں ان کا تعلق ہے پتھر کے زمانے میں۔ ‘‘تاہم، ایرانی فوجی حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ واشنگٹن تہران کی صلاحیتوں کو کم سمجھ رہا ہے اور زمینی حقائق کو درست انداز میں نہیں دیکھ رہا۔ انہوں نے کہا:’’ایسی سوچ صرف اس دلدل کو مزید گہرا کرے گی جس میں تم پہلے ہی پھنس چکے ہو۔ ‘‘