جنگ میں کھل کر ایران کی حمایت کرنے والے اسپین پر آئی مصیبت، گھیرا بندی کی تیاری میں امریکہ

(اےیوایس)

اسپین دنیا کا پہلا ملک تھا، جس نے ایران میں امریکی حملے کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ اس نے جنگ کے دوران امریکی لڑاکا طیاروں کو اپنے یہاں لینڈنگ کی اجازت نہیں دی تھی۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اس سلسلے میں اپنے سفارت کاروں کو ایک پیغام بھیجا ہے، جو لیک ہو گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس میں اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا پہلو سامنے آتا ہے تو اسپین کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ سفارت کاروں کو بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’’ہمیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ کاسٹیلو کو ریاست کی نگرانی میں رہتے ہوئے بار بار جنسی ہراسانی کا شکار ہونا پڑا۔ اس معاملہ میں کاسٹیلو کی جان چلی گئی، لیکن اب تک کسی بھی مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا ہے۔‘‘

اس پیغام میں آگے کہا گیا ہے کہ ’’ہمیں ان رپورٹوں کی بھی جانکاری ہے کہ کاسٹیلو نے اپنے آخری لمحات میں مرضی کی موت کے دوران ہچکچاہٹ کا اظہار کیا تھا، لیکن ان کے اشاروں کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘‘ واضح رہے کہ اسپین کے خلاف امریکہ کی اس کارروائی کو آنے والے وقت میں اس پر لگنے والی پابندیوں سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ مستقبل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے نام پر امریکہ اسپین کے خلاف اقتصادی پابندی عائد کر سکتا ہے۔ امریکہ اور اسپین کے درمیان 2025 میں 47 بلین ڈالر کی تجارت ہوئی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ اسپین دنیا کا پہلا ملک تھا، جس نے ایران میں امریکی حملے کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ اسپین نے جنگ کے دوران پہلے امریکی لڑاکا طیاروں اپنے یہاں لینڈنگ کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد امریکی طیاروں کے لیے فضائی حدود کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ مین اسپین کے فیصلے سے امریکہ کو بڑا جھٹکا لگا ہے، کیونکہ اسپین مشرق وسطیٰ اور یورپ کے دہانے پر واقع ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *