ایک رپورٹ کے مطابق ’نوٹم‘ میں کہا گیا ہے کہ جیٹ اے وَن فیول سپلائی چین میں رخنہ کی وجہ سے احتیاطاً سبھی ایئرلائنس کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تیل بیرونی ممالک سے لے کر چلیں۔
دراصل ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند ہے، جس کے باعث تیل اور گیس کی سپلائی جنوبی ایشیائی ممالک تک نہیں ہو پا رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کو بے انتہا پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہاں تیل کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے نوٹس ٹو ایئر مین ’نوٹم‘ جاری کرتے ہوئے غیر ملکی ایئرلائنز کو ضروری ایندھن اپنے ممالک سے ساتھ لانے کی ہدایت دی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایران جنگ کے باعث ہندوستان میں بھی ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) یعنی ہوائی ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں پروازوں کے ٹکٹ مہنگے ہونے کی بھی توقع ہے۔ تاہم، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ گھریلو روٹس پر اے ٹی ایف کی قیمتوں میں صرف 25 فیصد یعنی 15 روپے فی لیٹر کا اضافہ مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا، جبکہ بین الاقوامی پروازوں کے لیے ایئرلائنز کو مکمل بڑھی ہوئی قیمت ادا کرنی ہوگی۔