ایران میں جنگ بندی کیلئے اسلام آباد میں اجلاس، سعودی، مصرا ورترکی کی شرکت

(اےیوایس)

مذاکرات اورسفارت کاری سے مسائل حل کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال، تہران نے واشنگٹن پر سفارتکاری میں  الجھا کر زمینی حملے کی سازش کا الزام عائد کیا۔

ایران جنگ کے خاتمے اورمسائل کو مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعہ حل کرانے کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے اتوار کو اسلام آباد میں  پاکستانی، سعودی، مصری اور ترک وزرائے خارجہ نے تبادلہ خیال کیا۔ دوسری طرف امریکہ کے مزید ساڑھے ۳؍ ہزار فوجی اتوار کو مشرق وسطیٰ پہنچ گئےہیں۔ تہران کا الزام ہے کہ امریکہ ایک طرف سفارتکاری میں  الجھا رہا ہے اور دوسری طرف ایران میں  فوج بھیجنے کی تیاری کررہاہے۔ اسلامی جمہوریہ نے متنبہ کیا ہے کہ واشنگٹن اپنے فوجیوں  کو ’’آگ میں  جھونک‘‘ رہا ہے۔

ایران میں  جنگ بندی کے تعلق سے اسلام آباد میں  پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے ۴؍ فریقی اہم مشاورتی اجلاس پاکستان کے سینیٹر اسحاق ڈار، سعودی عرب کے فیصل بن فرحان، ترکی کے حاکان فیدان اور مصر کے بدر عبدالعاطی نے شرکت کی۔ چار ملکی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں خطے میں کشیدگی کی صورتحال اور جنگ بندی سے متعلقہ امور پر گفتگو کی گئی اور امن واستحکام کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری سے معاملات حل کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اس اہم بیٹھک سے پہلے پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے بھی فون پر گفتگو کی۔
اس بیچ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ سفارتی کوششوں میں مصروف ہونے کے باوجود خفیہ طور پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ قالیباف نے کہا کہ ’’دشمن کھلے عام مذاکرات اور بات چیت کے پیغامات دیتا ہے جبکہ خفیہ طور پر زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ ‘‘ ایران ایک سے زائد بار کہہ چکا ہے کہ وہ امریکہ کی زمینی فوج کامنتظر ہے۔ اتوار کو بھی قالیباف نے متنبہ کیا کہ واشنگٹن اپنے فوجیوں  کو آگ میں  جھونک رہا ہے۔ امریکہ کے ایک اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع ایران میں زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے جن میں جزیرہ خارگ اور آبنائے ہرمز کے قریب ساحلی مقامات پر ممکنہ چھاپے شامل ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *