یروشلم میں پام سنڈے کے موقع پر چرچ آف ہولی سیپلچر تک رسائی روکنے کے اسرائیلی فیصلے نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا، جس کے بعد چند گھنٹوں میں ہی حکومت کو فیصلہ واپس لینا پڑا۔ لاطینی پیٹریارک پیئر بٹسٹا پیزابالا کو ابتدائی طور پر داخلے سے روکنا مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا گیا، جبکہ یورپی اور امریکی لیڈروں نے سخت تشویش کا اظہار کیا۔
یروشلم میں پام سنڈے کے دوران پیش آنے والے تنازع نے عالمی سطح پر ہنگامہ کھڑا کر دیا، جب اسرائیلی پولیس نے چرچ آف دی ہولی سیپلکر میں داخلے سے لاطینی پیٹریارک پیئر بٹسٹا پیزابالا کو روک دیا۔ تاہم شدید بین الاقوامی دباؤ کے بعد بنجامن نیتن یاہو نے یو ٹرن لیا اور چند گھنٹوں کے اندر فیصلہ واپس لینے کا حکم دیا، جس کے بعد مذہبی تقریبات بحال کر دی گئیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور یروشلم میں سیکوریٹی اقدامات سخت کیے جا رہے ہیں۔
مرکزی واقعہ: مذہبی رسائی پر غیر معمولی پابندی
چرچ حکام کے مطابق، پیٹریارک کی پام سنڈے کی رسومات میں شرکت نہ صرف رسمی بلکہ مذہبی طور پر مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ پیٹریارک نے اس اقدام کو ’’سنگین اور بلاجواز پابندی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدیوں کے تنازعات کے باوجود بھی اس مقدس مقام تک رسائی کبھی اس طرح محدود نہیں کی گئی۔ چرچ آف ہولی سیپلچر، جو عیسائیت کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے، تاریخی طور پر ہر مذہب کے ماننے والوں کے لیے کھلا رہا ہے، حتیٰ کہ ماضی کے بڑے تنازعات کے دوران بھی۔
اسرائیلی مؤقف: سیکوریٹی خدشات کا جواز
اسرائیلی حکام نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عارضی سیکوریٹی قدم تھا، جو انٹیلی جنس الرٹس، میزائل خطرات اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باعث اٹھایا گیا۔ حکومت کے مطابق، یہ پابندی کسی ایک مذہب کے خلاف نہیں بلکہ وسیع حفاظتی پالیسی کا حصہ تھی، جس میں دیگر مقدس مقامات پر بھی محدودیاں شامل تھیں، جیسے مسجد اقصیٰ۔ تاہم ناقدین نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چرچ حکام پہلے ہی محدود اور کنٹرولڈ حاضری کی پیشکش کر چکے تھے، جس کے باوجود مکمل پابندی غیر متناسب تھی۔
عالمی ردعمل: یورپ اور امریکہ کی سخت تنقید
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے کہا کہ ’’مذہبی آزادی اور مقدس مقامات تک رسائی کا احترام ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے، خاص طور پر یروشلم جیسے حساس شہر میں۔‘‘ فرانس اور اٹلی کے حکام نے بھی اس اقدام کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیا اور خبردار کیا کہ تاریخی مذہبی انتظامات کو نقصان پہنچانا خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔ امریکہ نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے ’’مقدس مقامات کے جمود‘‘ کے مکمل احترام کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مذہبی رسائی یروشلم کے استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
اندرونی اور عالمی خدشات: ایک خطرناک مثال؟
بین الاقوامی مبصرین اور مذہبی لیڈروں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے اقدامات کو چیلنج نہ کیا گیا تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کر سکتے ہیں، جہاں جنگی حالات کے نام پر مذہبی آزادیوں کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ اس وسیع تر رجحان کا حصہ بھی قرار دیا جا رہا ہے جہاں حالیہ مہینوں میں یروشلم میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں پر رسائی کی پابندیاں بڑھتی دکھائی دی ہیں۔
پس منظر اور وسیع اثرات
یروشلم ایک ایسا شہر ہے جہاں مذہب، سیاست اور شناخت گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، اور معمولی تبدیلیاں بھی بڑے تنازعات کو جنم دے سکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جنگ کے دوران مذہبی رسومات میں مداخلت نہ صرف فوری ردعمل پیدا کرتی ہے بلکہ طویل المدتی عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ نیتن یاہو نے اگرچہ فیصلے کی واپسی کے بعد کہا کہ اسرائیل ’’تمام مذاہب کی آزادی‘‘ کا احترام کرتا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے زمینی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں سیکوریٹی کے نام پر مذہبی رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔