امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک جانب ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے دس دن کے لیے روکنے کا اعلان کیا ہے، تو دوسری جانب امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس ڈبل گیم نے عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، خاص طور پر وال اسٹریٹ جرنل کی خبر میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون خطے میں دس ہزار تک اضافی زمینی فوجی بھیجنے کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صدر ٹرمپ کو ممکنہ عسکری کارروائیوں کے لیے مزید اختیارات فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے، چاہے بظاہر سفارتی بات چیت جاری ہی کیوں نہ ہو۔
یہ صورتحال اس وقت مزید اہم ہو جاتی ہے جب ماضی میں بھی مذاکرات کے دوران کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ گزشتہ ماہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں ایران کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں ایرانی قیادت کے اہم افراد کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اس پس منظر میں موجودہ سفارتی کوششوں پر سوالات اٹھنا فطری ہے۔