ایران نے خلیجی ممالک کے ہوٹلوں کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے امریکی فوجیوں کو ٹھہرایا تو انہیں فوجی ہدف سمجھا جا سکتا ہے۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ امریکی اہلکار شہری مقامات کو بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق، حالیہ ایرانی حملوں اور اس کے اتحادی گروہوں کی کارروائیوں کے بعد امریکی فوج نے خطے کے مختلف ہوٹلوں اور شہری عمارتوں میں عارضی پناہ لینا شروع کر دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اہلکار محفوظ مقامات کی تلاش میں شہری علاقوں کا رخ کر رہے ہیں، جس پر ایران نے شدید اعتراض کیا ہے۔
دوسری جانب، خبر رساں ایجنسی شنہوا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کی یہ وارننگ صرف مخصوص ہوٹلوں تک محدود نہیں بلکہ ان تمام مقامات پر لاگو ہوتی ہے جہاں غیر ملکی فوجی اہلکاروں کو رہائش یا سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر یہ عمل جاری رہا تو اس کے نتائج فوری اور سنگین ہو سکتے ہیں۔
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی اسی نوعیت کا بیان دیتے ہوئے خلیجی ممالک کے ہوٹل مالکان سے اپیل کی تھی کہ وہ امریکی فوجیوں کو ٹھہرانے سے گریز کریں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی اہلکار اپنے فوجی اڈوں کو چھوڑ کر شہری علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں اور مقامی لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی 28 فروری سے شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔ دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس میں فوجی شخصیات کے ساتھ بڑی تعداد میں عام شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ایران کا یہ تازہ انتباہ خطے میں جاری تنازع کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔