عالمی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سرمایہ کے انخلا کے باعث روپیہ 94.28 فی ڈالر کی تاریخی نچلی سطح پر پہنچ گیا۔ اپوزیشن نے اس معاملے پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے
ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 88 فیصد تیل درآمد کرتا ہے، جس کی ادائیگی ڈالر میں ہوتی ہے۔ ایسے میں جب خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے روپیہ مزید کمزور ہوتا ہے۔ اسی دوران غیر ملکی سرمایہ کار بھی خطرے کے ماحول میں ہندوستانی بازاروں سے سرمایہ نکال کر محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ اندازوں کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے اربوں ڈالر کی فروخت کی ہے، جس کا براہ راست اثر روپے کی قدر پر پڑا ہے۔
روپے کی اس کمزوری کا اثر عام آدمی پر بھی واضح طور پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ چونکہ ہندوستان بڑی مقدار میں خام تیل، خوردنی تیل، الیکٹرانک اشیاء اور دیگر مصنوعات درآمد کرتا ہے، اس لیے روپے کی گراوٹ ان تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ متوقع ہے۔ اگر مہنگائی بڑھتی ہے تو ریزرو بینک آف انڈیا شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے قرض اور ای ایم آئی مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔
حکومت کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عالمی حالات میں بہتری نہ آئی تو روپے پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ ایسے میں آنے والے دنوں میں مہنگائی اور مالیاتی پالیسی دونوں پر اس کے اثرات مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔