ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران معاہدے کی سمت میں آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ تجاویز ثالثی ممالک کے ذریعے بھیجی گئی ہیں، جن میں جنگ بندی سے لے کر علاقائی سیکورٹی کے انتظامات تک کئی اہم نکات شامل ہیں۔
اس منصوبہ کے تحت ایران سے اس کے 3 اہم جوہری ٹھکاونوں کو بند کرنے، ملک کے اندر یورینیم کی افزودگی مکمل طور سے روکنے اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی علاقائی پراکسی گروپوں کو ملنے والی مدد روکنے اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی سمندری آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھلا رکھنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔
علاقائی سطح پر ایران سے یہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ وہ اپنی اتحادی تنظیموں کو فنڈ اور ہتھیاروں کی فراہمی روک دے گا۔ میزائل پروگرام سے منسلک معاملات، جیسے میزائلوں کی تعداد اور ان رینج پر آگے چل کر الگ سے بات چیت کی تجویز پیش گئی ہے۔ ساتھ ہی، ایران کی فوجی سرگرمیوں کو صرف دفاع تک محدود رکھنے کا مشورہ بھی شامل ہے۔ اس کے بدلے امریکہ نے جوہری پروگرام سے متعلق تمام پابندیاں ختم کرنے اور بوشہر ایٹمی بجلی گھر میں سویلین نیوکلیئر انرجی پروگرام کی ترقی میں تعاون کی پیشکش کی ہے، جس سے بجلی پیدا کی جا سکے گی لیکن اس پر بین الاقوامی نگرانی برقرار رہے گی۔