رپورٹ میں نابلس کے جنوب میں واقع ’’طاؤون‘‘ محلے کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں رواں برس جنوری سے انہدامی کارروائیاں جاری ہیں۔ صرف ایک ماہ میں اسرائیلی فوج نے ایریا سی میں ۲۴؍ فلسطینی عمارتیں اجازت نامہ نہ ہونے کی بنیاد پر مسمار کیں۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار
یو این آفس فار دی کوآرڈینیش آف ہیومینیٹیرین افیئرس (او سی ایچ اے) کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں کم از کم ۲؍ ہزار ۴۶۱؍ فلسطینی ڈھانچے اجازت ناموں کی عدم دستیابی کے باعث مسمار کیے گئے۔ اس کے مقابلے میں پچھلے نو برسوں میں ۴؍ ہزار ۹۸۴؍ عمارتیں گرائی گئی تھیں، جس سے حالیہ عرصے میں مسماری کی رفتار میں نمایاں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سال میں تقریباً ۳۵۰۰؍ فلسطینی بے گھر ہوئے، جبکہ تقریباً ۸۰؍ برادریاں متاثر ہوئیں۔
قانونی اور بین الاقوامی پہلو
فلسطینی قیادت ان اقدامات کو ’’عملی الحاق‘‘ قرار دیتی ہے جو دو ریاستی حل کے امکانات کو کمزور کرتا ہے۔ جولائی ۲۰۲۴ء میں آئی سی جے نے اپنی تاریخی رائے میں اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں بستیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ اجازت نامہ نظام اس بین الاقوامی رائے سے متصادم سمجھا جا رہا ہے۔
فلسطینی مؤقف
فلسطینی باشندوں کا کہنا ہے کہ جب تعمیراتی اجازت نامے تقریباً ناممکن ہوں تو انہیں بغیر اجازت تعمیر پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے گھروں کو مسمار کیے جانے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یہ صورتحال بنیادی رہائشی حقوق اور انسانی وقار سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔