(اےیوایس)
امریکہ کے شمال مشرقی حصے میں شدید برفانی طوفان کے بعد معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں، سڑکیں کئی فٹ برف میں دب گئی ہیں جس کے باعث سفر ناممکن ہو گیا ہے اور سات ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرین سروس بھی معطل ہے جبکہ پیر کے روز سات ہزار چار سو سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں۔ اسی طرح ہزاروں مکانات اور کاروباری مراکز بجلی سے بھی محروم ہیں۔
نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی اور دیگر حکام نے رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ باہر نکلنے سے گریز کریں تاکہ عملہ سڑکوں کو صاف کر سکے۔
اسی طرح نیویارک کے علاوہ قریبی علاقوں میں بھی سکول بند ہیں جبکہ براڈوے کے تھیٹرز بھی بند پڑے ہیں۔
ظہران ممدانی کا کہنا ہے کہ ’نیویارک میں ہنگامی صورت حال برقرار ہے اور سفر سے متعلق ایڈوائزری بھی موجود ہے۔‘
محکمہ موسمیات سے منسلک ماہر موسمیات باب اورویک کے مطابق نیویارک سٹی کے سینٹرل پارک میں دوپہر ایک بجے تک 48 سینٹی میٹر سے زیادہ برف پڑی جبکہ بوسٹن میں 14 انچ تک برفباری ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق علاقے میں چلنے والی ہواؤں کی رفتار 40 سے 60 میل فی گھنٹہ تک پہنچ رہی ہے اور شدید برفباری بھی ہو رہی ہے۔
باب اورویک کا کہنا ہے کہ جتنی برف پڑ چکی ہے اس کو ہٹانے میں شاید ایک ہفتہ لگے۔
فلاڈیلفیا میں 14 انچ برف پڑی ہے جبکہ رہوڈ آئی لینڈ میں ہر طرف 32 انچ سے زیادہ برف کی تہہ جم گئی ہے، جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔
پاور آؤٹ ایج یو ایس کے مطابق پیر کی سہ پہر تک چھ لاکھ آٹھ ہزار 711 گھر بجلی سے محروم تھے جبکہ میساچوسٹس میں یہ تعداد لاکھوں میں ہے۔