راہول گاندھی کی ‘محمد دیپک’ سے ملاقات؛ انسانیت کا علمبردار جس نے نفرت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا

(اےیوایس)

اترکھنڈ کے کوٹ دوار میں یوم جمہوریہ کا واقعہ اور وائرل ویڈیو

کانگریس کے سینئر لیڈر راہول گاندھی سے محمد دیپک (دیپک کمار) نےملاقات کی، جن کی تصاویر اب سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی ہیں۔ 46 سالہ دیپک کمار اس وقت ملک بھر کی توجہ کا مرکز بنے جب 26 جنوری کو اتراکھنڈ کے شہر کوٹ دوار میں انہوں نے بجرنگ دل کے ارکان کا جرات مندی سے سامنا کیا۔ بجرنگ دل کے شدت پسند ارکان ایک بزرگ مسلم دکاندار کی دکان کے نام میں لفظ ’’بابا‘‘ کے استعمال پر اعتراض کر رہے تھے۔ اس تصادم کی ویڈیو انٹرنیٹ پر تیزی سے وائرل ہوئی جس میں کمار خود کو ’’محمد دیپک‘‘ کے طور پر متعارف کرواتے ہوئے دکاندار کا دفاع کر رہے تھے۔

مذہب سے بالاتر انسانیت کا پیغام

ایک اور ویڈیو کلپ میں جو بعد میں سامنے آیا، کمار نے اپنے نظریات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’میں نہ تو ہندو ہوں، نہ مسلمان، نہ سکھ اور نہ ہی عیسائی۔ میں سب سے پہلے ایک انسان ہوں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرنے کے بعد انہیں کسی مذہب کو نہیں بلکہ خدا اور انسانیت کو جواب دینا ہے۔ ان کے اس جرات مندانہ موقف نے انہیں سوشل میڈیا پر ایک بڑی شناخت عطا کی ہے۔

بجرنگ دل کا احتجاج اور قانونی کارروائی

رپورٹس کے مطابق، 26 جنوری کے واقعے کے چند روز بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ 31 جنوری کو دہرادون اور ریشی کیش سے آئے ہوئے بجرنگ دل کے تقریباً 30 سے 40 ارکان نے دیپک کمار کی رہائش گاہ اور جم کے باہر مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی۔ اس دوران کمار اور ان کے دوست وجے راوت کے خلاف مار پیٹ اور دھمکانے کے الزامات کے تحت ایف آئی آر (FIR) بھی درج کی گئی۔ کمار نے ’دی ٹائمز آف انڈیا‘ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ہنگامہ آرائی مقامی لوگوں نے نہیں بلکہ باہر سے آنے والے افراد نے پولیس کی موجودگی میں کی تھی۔

نفرت کے سامنے ڈٹے رہنے کا عزم اور سوشل میڈیا پر مقبولیت

شدید دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود دیپک کمار کا کہنا ہے کہ وہ نفرت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے اور جب بھی ضرورت پڑی انسانیت کے لیے دوبارہ کھڑے ہوں گے۔ اگرچہ وہ اب بھی اپنے خاندان کی حفاظت کے حوالے سے فکر مند ہیں، لیکن وہ اپنا کاروبار معمول کے مطابق چلا رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد ان کی سوشل میڈیا فالونگ میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے؛ فیس بک پر ان کے فالوورز 1,500 سے بڑھ کر 4.3 لاکھ سے زائد ہو گئے ہیں، جبکہ انسٹاگرام پر یہ تعداد 5 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *