(اےیوایس)
پاکستان کی وفاقی حکومت نے موبائل اینڈ الیکٹرانکس ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026 تا 2033 تیار کی ہے جس کے تحت ملک کی مقامی موبائل انڈسٹری میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
حکومت جہاں اس پالیسی کے تحت استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے تو وہیں مقامی سطح پر موبائل مینوفیکچرنگ کو بھی ترجیح دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسی پالیسی کے تحت وفاقی حکومت نے معروف موبائل فون کمپنی ’ایپل‘ کو بھی پاکستان آنے کی دعوت دی ہے، جس پر ایپل کمپنی نے ابتدائی طور پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
جمعرات کو انجینیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے ترجمان ذیشان اشرف نے اردو نیوز سے گفتگو میں تصدیق کی کہ ’ایپل نے پاکستان میں کام کرنے پر اصولی آمادگی ظاہر کی ہے تاہم اس سلسلے میں تین شرائط بھی پیش کی گئی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کمپنی کی جانب سے ہمارے ساتھ ہونے والی پیش رفت کے سلسلے میں ان کی شرائط آئندہ ہفتے وزیراعظم کے ساتھ میٹنگ میں زیرِبحث لائی جائیں گی اور وہاں سے منظوری ملنے کے بعد ایپل کمپنی کے پاکستان میں کام شروع کرنے کا عمل آگے بڑھے گا۔‘
ترجمان ای ڈی بی کے مطابق ہم نے ایپل کو یہ تجویز دی کہ آپ اپنا پلانٹ پاکستان میں لگائیں، جہاں موبائل فونز کی مینوفیکچرنگ بھی ہو اور مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی ملیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ایپل پر یہ واضح کیا گیا ہے کہ ہم اپنی پالیسی کے تحت پاکستان میں موبائل فونز کی مقامی پیداوار بڑھانا چاہتے ہیں، اسی لیے ایپل جیسی بڑی کمپنیوں کا یہاں آنا ضروری ہے۔‘
تاہم ایپل نے جواب میں موقف اختیار کیا کہ ’ان کے موبائل فونز کی لاگت چونکہ زیادہ ہوتی ہے، اس لیے فوری طور پر مکمل مینوفیکچرنگ شروع کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ البتہ ابتدائی مرحلے میں موبائل فونز کی مرمت اور ریفربشمنٹ پر کام کیا جا سکتا ہے، اور اسے دو سے تین سال تک جاری رکھا جا سکتا ہے۔‘
ایپل کمپنی نے ای ڈی بی کو یہ بھی بتایا کہ ’آئی فونز کو دوبارہ ایکسپورٹ کیا جائے گا جبکہ کچھ مقامی مارکیٹ میں فروخت کیے جائیں گے تاہم زیادہ تر زرِ مبادلہ ایکسپورٹ سے حاصل ہوگا۔‘
ذیشان اشرف کا کہنا تھا کہ ’ایپل اگر اس ماڈل پر تین سال کام کرتی ہے تو اس سے پاکستان کو تقریباً 300 ملین (30 کروڑ) ڈالر کا زرِ مبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔‘
ایپل کمپنی نے اپنے مطالبات میں یہ بھی کہا ہے کہ انڈیا میں پلانٹ لگانے پر زمین سے متعلق تقریباً چھ فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑ رہا ہے، اس لیے وہ حکومتِ پاکستان سے چاہتے ہیں کہ یہاں اس کے مقابلے میں کم ٹیکس مقرر کیا جائے۔