پاکستان نے دوست کو تھما یا ستلی بم ، لانچ کرتے ہی فُس ، شہباز۔ منیر کی جوڑی نےسعودی عرب کو بھی بنایا بے وقوف

(اےیوایس)

Pakistan Cheat Azerbaijan: اگر ہم دنیا کے 10 دھوکے باز اور چالباز ممالک کی بات کریں تو بلاشبہ مکار پاکستان بھی ان میں شامل ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر عالمی فراڈ کے ماسٹر مائنڈز میں شامل ہوں گے۔ پچھلے کچھ مہینوں سے پاکستان اپنے ہتھیاروں، بموں اور لڑاکا طیاروں کے معیار کو لے کر خوب ڈھنڈھورا پیٹ رہا ہے ۔ شہباز اور منیر کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے ہتھیاروں کے نظام اور لڑاکا طیارے اتنے جدید ہیں کہ دنیا ان کی تعریف کرتی ہے۔ سعودی عرب، آذربائیجان اور کئی دوسرے ممالک کو لڑاکا طیارے اور ہتھیاروں کے نظام فروخت کرنے کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کو خاص طور پر JF-17 لڑاکا طیاروں کا جنون ہے، جسے چین کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔

لیکن اب ایک ایسا سچ سامنے آگیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام آباد کا ایسا کوئی سگا نہیں ، پاکستان نے جسے ٹھگا نہیں ایسا نہیں ۔ جی ہاں! یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ ایک رپورٹ سے اس کا انکشاف ہوا ہے۔ پاکستان نے اپنے اتحادی آذربائیجان کو ایسا گولہ بارود فروخت کردیا جو نہ صرف پرانا ہے بلکہ اس کی رینج اور مہلک ہونے کے معاملے میں بھی اثر دار نہیں ہے۔ دریں اثنا، ہندوستان نے آذربائیجان کے پڑوسی ملک آرمینیا کو پیناکا راکٹ لانچر برآمد کیے ہیں۔ یہ وہی لانچر ہے جس نے آپریشن سندور میں پاکستان کو تہس ۔ نہس کردیا ۔ پاکستان نے نہ صرف آذربائیجان بلکہ سعودی عرب کو بھی دھوکہ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاض نے اب بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدوں کو آگے بڑھانا شروع کر دیا ہے۔
پاکستان کی دفاعی برآمدات بالخصوص چھوٹے ہتھیاروں کے کارتوس اور توپ خانے کے گولہ بارود کے معیار پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ دفاعی ماہرین اور تنازعات والے علاقوں کی رپورٹس کے مطابق، آذربائیجان کو فروخت کیے جانے والے پاکستانی گولہ بارود کا ایک بڑا حصہ دہائیوں پرانے ذخیرے سے تیار کیا جاتا ہے یا فوج کے زیر کنٹرول سرکاری فیکٹریوں میں کم معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ علاقائی کشیدگی پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ بہت سے چھوٹے ہتھیاروں کے راؤنڈز میں خرابی پائی گئی ہے جیسے کہ سنکنرن، زیادہ یا کم ترسیل، اور غلط پیمائش، جو کہ خراب کوالٹی کنٹرول اور پیداواری عمل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ آرٹلری گولے بھی توقع کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ اندرونی تحقیقات اور فیلڈ فیڈ بیک سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سے گولے اپنی اعلان کردہ رینج کا صرف 40 سے 60 فیصد حاصل کر رہے ہیں، جو ممکنہ طور پر زیادہ شدت کے آپریشنز میں ان کی تاثیر کو متاثر کر رہے ہیں۔
سعودی عرب بھی نہیں بخشا

ان واقعات سے پاکستان کے روایتی صارفین بھی متاثر ہوئے ہیں۔ سعودی عرب جیسے ممالک (جو کبھی پاکستانی چھوٹے ہتھیاروں کے کارتوس اور توپ خانے کے گولوں پر بہت زیادہ انحصار کرتے تھے) حالیہ برسوں میں آہستہ آہستہ اپنے سپلائرس بدل رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ریاض اب بھارت سے 5.56 ایم ایم اور 7.62 ایم ایم کارتوس اور 155 ایم ایم کے گولے خرید رہا ہے جو سخت آزمائشوں اور حقیقی استعمال میں اپنی قابل اعتماد کارکردگی کے لیے مشہور ہیں۔ یہ تبدیلی دفاعی مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری، جدید پیداواری خطوط، اعلیٰ معیار اور بین الاقوامی معیارات کی تعمیل کرنے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وہ عالمی ہتھیاروں کی منڈی میں خود کو کم لاگت والے آپشن کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو مغربی یا روسی نظام کے سستے متبادل کے خواہاں ہیں۔ پرانے گولہ بارود سے میدان جنگ اور باہمی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پاکستان کو دھکہ لگنا طے

دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس طرح کے الزامات پاکستان کے برآمدی اہداف کے لیے ایک دھچکا ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی خریداروں کے لیے قیمت سے زیادہ قابل اعتماد اور حفاظتی معیارات اہم ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر کوالٹی کنٹرول اور پیداواری عمل میں جامع بہتری نہ لائی گئی تو پاکستان کو نہ صرف موجودہ منڈیوں سے محروم ہونے کا خطرہ ہے بلکہ نئے مواقع تک رسائی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ آذربائیجان اور دیگر ممالک کی جانب سے استعمال کیے جانے والے پاکستانی گولہ بارود کی مزید مکمل تکنیکی جانچ کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ٹیسٹ رپورٹس اور فیلڈ اسیسمنٹ آنے والے مہینوں میں اس معاملے میں مزید وضاحت لاسکتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کی دفاعی برآمدات کی ساکھ جانچ پڑتال کی زد میں ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *