غزہ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے لزارینی نے واضح کیا کہ رفح بارڈر کراسنگ پر اسرائیلی پابندیوں کے تحت صرف۵۰؍ افراد کو گزرنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا، ’’واضح رہے کہ رفح کراسنگ ابھی ابھی کھلی ہے۔ فی الحال ہمارے پاس صرف۵۰؍ افراد کو گزرنے کی اجازت ہے، اور یہ صرف پیدل چلنے والوں کے لیے کھلی ہے۔ لہٰذا یہ غزہ میں سپلائی کا نیا راستہ نہیں ہے۔‘‘انہوں نے تبصرہ کیا کہ غزہ کے لوگ اب بھی جدوجہد کر رہے ہیں اور۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء سے نافذ علامتی جنگ بندی معاہدے کے دوران فلسطینی ہلاک کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ’’وہ بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس پناہ گاہیں نہیں ہیں۔ سردی بہت سخت ہے۔ صحت کی حالت انتہائی خراب ہے۔ لہٰذا، غزہ میں اب بھی بقا کی روزانہ کی جدوجہد جاری ہے۔‘‘
اقوام متحدہ کی رکن ریاستوں کے رضاکارانہ مالی تعاون سےچلنے والی یو این آر ڈبلیو اے۱۹۵۰ء میں اپنے آغاز سے ہی فلسطینی پناہ گزینوں کو امداد فراہم کرنے والی اہم ایجنسی رہی ہے، جو خوراک، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور رہائش مہیا کرتی ہے۔ ایجنسی ۵۹؍ لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کوامداد فراہم کرتی ہے۔جبکہ ۷۵؍ سال سے زیادہ کے کام کے دوران، یو این آر ڈبلیو اے کی سہولیات بار بار اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنی ہیں، جس میں کئی ٹن خوراک اور دوائیں تباہ ہوئی ہیں۔
بعد ازاں اکتوبر۲۰۲۴ء میں، اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایجنسی کے کچھ ملازمین پر۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کی واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں ایجنسی کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی۔یو این آر ڈبلیو اے کی خدمات معطّل ہونے سے فلسطینی علاقوں میں تقریباً۲۵؍ لاکھ پناہ گزینوں کی زندگیاں متاثر ہوئی ہیں۔اس دوران، متعدد عطیہ دینے والے ممالک نے یو این آر ڈبلیو اے کو اپنی مالی امداد معطّل کر دی، جس نے ایجنسی کو گہرے مالی بحران میں دھکیل دیا۔ واضح رہے کہ۲۰؍ جنوری کو، اسرائیلی فوجوں نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں یو این آر ڈبلیو اے کے ہیڈکوارٹرز پر چھاپہ مارا، کمپاؤنڈ پر قبضہ کیا، اور اندر کی سہولیات کو مسمار کر دیاتھا۔