امریکہ اور روس میں آخری جوہری معاہدہ بھی ختم، نیو سٹارٹ کیا تھا اور کب ہوا؟

(اےیوایس)

روس اور امریکہ کے درمیان جوہری ہتھیاروں سے متعلق آخری معاہدہ جمعرات کو ختم ہو گیا، جس کے نتیجے میں نصف صدی سے زائد عرصے میں پہلی بار دنیا میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار رکھنے والے دونوں ممالک پر عائد تمام پابندیاں ختم ہو گئی ہیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق نیو سٹارٹ معاہدہ ختم ہونے کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اب جوہری اسلحے کی ایک نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔
نیو سٹارٹ معاہدہ سرد جنگ کے بعد جوہری اسلحے کو کنٹرول کرنے کے سلسلے کی آخری کڑی تھا جس میں ایک سال توسیع کی تجویز گذشتہ برس ستمبر میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے دی تھی۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر کی تجویز اور اس معاہدے میں توسیع کے حوالے سے کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ کا اس حوالے سے یہ کہنا تھا کہ ’اگر یہ معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ختم ہوتا رہے‘ اوراس بات پر زور دیا کہ ’معاہدہ بہتر شکل میں ہونا چاہیے۔‘
کریملن کے مشیر یوری اوشاکوف کا کہنا ہے کہ ’صدر پوتن نے بدھ کو چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اس معاہدے کی میعاد ختم ہونے پر بات چیت کی۔‘
ان کے مطابق ’روسی صدر نے اپنے چینی ہم منصب کو بتایا کہ امریکہ نے اُن کی جانب سے معاہدے میں توسیع کی تجویز پر کوئی جواب نہیں دیا۔‘
روس کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نیو سٹارٹ معاہدے کے فریقین اب اس معاہدے کے تحت کسی بھی ذمہ داری یا باہمی اعلانات کے پابند نہیں رہے۔‘
اس حوالے سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اب دونوں ممالک اپنے آئندہ اقدامات کے انتخاب میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔‘
نیو سٹارٹ معاہدہ سابق امریکی صدر براک اوبامہ اور اُن کے روسی ہم منصب دمتری میدویدیف کے درمیان 2010 میں طے پایا تھا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *