بلوچستان میں سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’اب تک فتنہ الہندوستان کے 58 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سکیورٹی اداروں اور پولیس کے 10 اہلکار جان سے گئے۔‘ سکیورٹی ذرائع کے مطابق سنیچر کی صبح فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے 12 مقامات پر حملے کیے جن میں کوئٹہ، دالبندین، پسنی اور
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کی بہادر مسلح افواج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور بلوچستان پولیس نے جرات و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔‘
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں 58 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ ’اطلاعات کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گرد مسلسل افغانستان میں موجود اپنے ہینڈلرز سے رابطے میں تھے۔ اس دوران 10 سکیورٹی اہلکار شہید اور دیگر زخمی بھی ہوئے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دہشت گردوں نے گوادر میں خضدار کے بلوچ مزدور خاندان کے پانچ افراد کو نشانہ بنایا جن میں ایک خاتون اور تین بچے شامل ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کارروائیوں میں اب تک 58 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں اور فورسز حملہ آوروں کے تعاقب میں مختلف مقامات پر کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
’بلوچستان کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: سرفراز بگٹی
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ گذشتہ 12 ماہ میں بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے 700 سے زائد دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا۔
’صرف گزشتہ دو روز میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 70 کے قریب دہشت گرد مارے گئے۔‘
وزیراعلیٰ بلوچستان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق سرفراز بگٹی نے بتایا کہ ’آج علی الصبح فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے مختلف علاقوں میں حملوں کی کوشش کی۔ بلوچستان پولیس اور ایف سی کے جانباز جوانوں نے مل کر دہشت گردوں کے تمام حملے ناکام بنا دیے۔‘
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں بم دھماکے کے مقام کا دورہ کر کے سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔ آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان کی وزیر اعلیٰ کو واقعے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پولیس اور سی ٹی ڈی کے فوری اور مؤثر ردعمل پر بہادر جوانوں کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف بروقت رسپانس قابل ستائش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، بلوچستان کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔‘
اس سے قبل وزیراعلٰی بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا گزشتہ دو روز میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 70 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔‘